ملن

MORE BYغوث خواہ مخواہ حیدرآبادی

    جب حسینوں کی تصاویر کتابوں میں ملیں

    کورے کاغذ ہی سوالوں کے جوابوں میں ملیں

    دن کو تھیٹر میں ملیں رات کو باغوں میں ملیں

    مل نے والے جو ملیں کچھ تو حجابوں میں ملیں

    چاہنے والوں کا اس طرح چمن میں ہو ملن

    جس طرح پھول چنبیلی کے گلابوں میں ملیں

    نا میں دولہا ہوں نیا اور نہ نئی دولہن تم

    دونوں بوڑھے ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں

    عمر بڑھتی ہے تو جذبوں میں کمی ہوتی ہے

    مرغ و ماہی کے مزے کیسے کبابوں میں ملیں

    اسی امید پہ میخانے کے چکر کاٹے

    شاید اب اچھے بھلے لوگ خرابوں میں ملیں

    وصل کا لطف شب ہجر کے مارے یوں لیں

    نیند آ جائے جو دونوں کو تو خوابوں میں ملیں

    جن ثوابوں کے بھروسے پہ ہے زندہ واعظ

    ہمیں شاید وہ گناہوں کے عذابوں میں ملیں

    واعظ و رند اگر شیر و شکر ہو جائیں

    ذائقے پند و نصیحت کے شرابوں میں ملیں

    ؔخواہ مخواہ ملنے سے کتراتے ہو جن سے دن میں

    کیا کرو گے جو تمہیں رات کو خوابوں میں ملیں

    مأخذ :

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے