سر پہ چڑھا رکھا ہے

غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی

سر پہ چڑھا رکھا ہے

غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی

MORE BYغوث خواہ مخواہ حیدرآبادی

    میں نے پوچھا کہ یہ کیا حال بنا رکھا ہے

    نہ تو میک اپ ہے نہ بالوں کو سجا رکھا ہے

    چھیڑتی رہتی ہیں اکثر لب و رخساروں کو

    تم نے زلفوں کو بہت سر پہ چڑھا رکھا ہے

    مسکراتے ہوئے اس نے یہ کہا شوخی سے

    ایک دیوانے نے دیوانہ بنا رکھا ہے

    جیب غائب ہے تو نیفا ہے بٹن کے بدلے

    تم نے پتلون کا پاجامہ بنا رکھا ہے

    مشرقی رہن سہن چال و چلن مغرب کا

    ہم نے تہذیب کا شیر خرمہ بنا رکھا ہے

    گر صلہ دو گے مجھے میری وفاؤں کے عوض

    مانگ لوں گا تمہیں انعام میں کیا رکھا ہے

    جو سبھی دیکھ چکے ہم وہ نہیں دیکھیں گے

    وہ دکھاؤ ہمیں جو سب سے چھپا رکھا ہے

    ان کو اغیار محبت سے لگاتے ہیں گلے

    مجھ کو اپنوں نے بھی بیگانہ بنا رکھا ہے

    زندگی موت کی تمہید ہے پر لوگوں نے

    مختصر بات کا افسانہ بنا رکھا ہے

    لوگ بھولیں نہ کبھی ایسا تخلص رکھیے

    نام تو نام ہے بس نام میں کیا رکھا ہے

    قافیے اور ردیفوں و تخلص کے سوا

    ؔخواہ مخواہ آپ کے اشعار میں کیا رکھا ہے

    مأخذ :

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے