طنزیہ غزل

MORE BYغوث خواہ مخواہ حیدرآبادی

    شاعری میں نہ کبھی شکوۂ رسوائی کر

    اپنے اشعار کی تو خود ہی پذیرائی کر

    تیرے ویران شب و روز بھی رنگیں ہوں گے

    بس کسی طرح حسینوں سے شناسائی کر

    جو مریضان محبت ہیں غموں کے مارے

    ان کی اشعار ظرافت سے مسیحائی کر

    پیٹ کی آگ بجھا محنت و مزدوری سے

    وقت بچ جائے تو مشق سخن آرائی کر

    بھول کر عشق کا سودا نہ سما لے سر میں

    اور مجنوں کی طرح خود کو نہ سودائی کر

    اپنی تنہائیاں یادوں سے درخشاں کر لے

    پھر تصور میں سہی انجمن آرائی کر

    عاجزی اور نہ آنسو نہ فغاں شامل ہے

    کچھ تو فریاد کو تو قابل شنوائی کر

    وقت کے ساتھ ترا دل بھی بہل جائے گا

    لے کے کاغذ و قلم قافیہ پیمائی کر

    اپنے معشوق کے خوابوں میں چلا جا ہر شب

    ؔخواہ مخواہ یوں بھی علاج غم تنہائی کر

    اور اگر چاہے کہ ہو ؔخواہ مخواہ شہرت تیری

    یوسفی گر نہیں ممکن تو زلیخائی کر

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے