پندرہ اگست

مفتوں کوٹوی

پندرہ اگست

مفتوں کوٹوی

MORE BYمفتوں کوٹوی

    خوشیوں کے گیت گاؤ کہ پندرہ اگست ہے

    سب مل کے مسکراؤ کہ پندرہ اگست ہے

    ہر سمت قہقہے ہیں چراغاں ہے ہر طرف

    تم خود بھی جگمگاؤ کہ پندرہ اگست ہے

    ہر گوشۂ وطن کو نکھارو سنوار دو

    مہکاؤ لہلہاؤ کہ پندرہ اگست ہے

    آزادیٔ وطن پہ ہوئے ہیں کئی نثار

    خاطر میں ان کو لاؤ کہ پندرہ اگست ہے

    رکھو نہ صرف خندۂ گل ہیں نگاہ میں

    کانٹوں کو بھی ہنساؤ کہ پندرہ اگست ہے

    روحیں امان و امن کی پیاسی ہیں آج بھی

    پیاس ان کی اب بجھاؤ کہ پندرہ اگست ہے

    شمع خلوص و انس کی مدھم ہے روشنی

    لو اور کچھ بڑھاؤ کہ پندرہ اگست ہے

    یہ عہد تم کرو کہ فسادات پھر نہ ہوں

    ہاں آگ یہ بجھاؤ کہ پندرہ اگست ہے

    کھاؤ قسم کہ خون پلائیں گے ملک کو

    دل سے قسم یہ کھاؤ کہ پندرہ اگست ہے

    ہر حادثے میں اہل وطن مستعد رہیں

    وہ ولولہ جگاؤ کہ پندرہ اگست ہے

    اونچا رہے شرافت و اخلاق کا علم

    پرچم بلند اٹھاؤ کہ پندرہ اگست ہے

    ہو درد دل میں جذبۂ حب وطن فزوں

    مفتوںؔ قلم اٹھاؤ کہ پندرہ اگست ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے