پندرہ اگست

جاوید اختر

پندرہ اگست

جاوید اختر

MORE BYجاوید اختر

    دلچسپ معلومات

    (یہ نظم 15اگست2007 کو ہندوستانی پارلیمنٹ میں اسی جگہ سنائی گئی تھی جہاں سے 15اگست 1947میں پنڈت جواہر لال نہرو نے آزادی کا اعلان کیا تھا)

    یہی جگہ تھی یہی دن تھا اور یہی لمحات

    سروں پہ چھائی تھی صدیوں سے اک جو کالی رات

    اسی جگہ اسی دن تو ملی تھی اس کو مات

    اسی جگہ اسی دن تو ہوا تھا یہ اعلان

    اندھیرے ہار گئے زندہ باد ہندوستان

    یہیں تو ہم نے کہا تھا یہ کر دکھانا ہے

    جو زخم تن پہ ہے بھارت کے اس کو بھرنا ہے

    جو داغ ماتھے پہ بھارت کے ہے مٹانا ہے

    یہیں تو کھائی تھی ہم سب نے یہ قسم اس دن

    یہیں سے نکلے تھے اپنے سفر پہ ہم اس دن

    یہیں تھا گونج اٹھا وندے ماترم اس دن

    ہے جرأتوں کا سفر وقت کی ہے راہ گزر

    نظر کے سامنے ہے ساٹھ میل کا پتھر

    کوئی جو پوچھے کیا کیا ہے کچھ کیا ہے اگر

    تو اس سے کہہ دو کہ وہ آئے دیکھ لے آ کر

    لگایا ہم نے تھا جمہوریت کا جو پودھا

    وہ آج ایک گھنیرا سا اونچا برگد ہے

    اور اس کے سائے میں کیا بدلا کتنا بدلا ہے

    کب انتہا ہے کوئی اس کی کب کوئی حد ہے

    چمک دکھاتے ہیں ذرے اب آسمانوں کو

    زبان مل گئی ہے سارے بے زبانوں کو

    جو ظلم سہتے تھے وہ اب حساب مانگتے ہیں

    سوال کرتے ہیں اور پھر جواب مانگتے ہیں

    یہ کل کی بات ہے صدیوں پرانی بات نہیں

    کہ کل تلک تھا یہاں کچھ بھی اپنے ہاتھ نہیں

    ودیشی راج نے سب کچھ نچوڑ ڈالا تھا

    ہمارے دیش کا ہر کرگھا توڑ ڈالا تھا

    جو ملک سوئی کی خاطر تھا اوروں کا محتاج

    ہزاروں چیزیں وہ دنیا کو دے رہا ہے آج

    نیا زمانہ لیے اک امنگ آیا ہے

    کروڑوں لوگوں کے چہرے پہ رنگ آیا ہے

    یہ سب کسی کے کرم سے نہ ہے عنایت سے

    یہاں تک آیا ہے بھارت خود اپنی محنت سے

    جو کامیابی ہے اس کی خوشی تو پوری ہے

    مگر یہ یاد بھی رکھنا بہت ضروری ہے

    کہ داستان ہماری ابھی ادھوری ہے

    بہت ہوا ہے مگر پھر بھی یہ کمی تو ہے

    بہت سے ہونٹھوں پہ مسکان آ گئی لیکن

    بہت سی آنکھیں ہے جن میں ابھی نمی تو ہے

    یہی جگہ تھی یہی دن تھا اور یہی لمحات

    یہیں تو دیکھا تھا اک خواب سوچی تھی اک بات

    مسافروں کے دلوں میں خیال آتا ہے

    ہر اک ضمیر کے آگے سوال آتا ہے

    وہ بات یاد ہے اب تک ہمیں کہ بھول گئے

    وہ خواب اب بھی سلامت ہے یا فضول گئے

    چلے تھے دل میں لئے جو ارادے پورے ہوئے

    یہ کون ہے کہ جو یادوں میں چرخا کاتتا ہے

    یہ کون ہے جو ہمیں آج بھی بتاتا ہے

    ہے وعدہ خود سے نبھانا ہمیں اگر اپنا

    تو کارواں نہیں رک پائے بھول کر اپنا

    ہے تھوڑی دور ابھی سپنوں کا نگر اپنا

    مسافرو ابھی باقی ہے کچھ سفر اپنا

    مأخذ :
    • کتاب : Lava (Pg. 131)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے