انتشار

کیفی اعظمی

انتشار

کیفی اعظمی

MORE BYکیفی اعظمی

    کبھی جمود کبھی صرف انتشار سا ہے

    جہاں کو اپنی تباہی کا انتظار سا ہے

    منو کی مچھلی نہ کشتئ نوح اور یہ فضا

    کہ قطرے قطرے میں طوفان بے قرار سا ہے

    میں کس کو اپنے گریباں کا چاک دکھلاؤں

    کہ آج دامن یزداں بھی تار تار سا ہے

    سجا سنوار کے جس کو ہزار ناز کیے

    اسی پہ خالق کونین شرمسار سا ہے

    تمام جسم ہے بے دار فکر خوابیدہ

    دماغ پچھلے زمانے کی یادگار سا ہے

    سب اپنے پاؤں پہ رکھ رکھ کے پاؤں چلتے ہیں

    خود اپنے دوش پہ ہر آدمی سوار سا ہے

    جسے پکاریے ملتا ہے اک کھنڈر سے جواب

    جسے بھی دیکھیے ماضی کا اشتہار سا ہے

    ہوئی تو کیسے بیاباں میں آ کے شام ہوئی

    کہ جو مزار یہاں ہے مرا مزار سا ہے

    کوئی تو سود چکائے کوئی تو ذمہ لے

    اس انقلاب کا جو آج تک ادھار سا ہے

    مآخذ
    • کتاب : azadi ke bad urdu nazm (Pg. 287)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY