اک شہنشاہ نے بنوا کے۔۔۔۔

شکیل بدایونی

اک شہنشاہ نے بنوا کے۔۔۔۔

شکیل بدایونی

MORE BY شکیل بدایونی

    INTERESTING FACT

    فلم لیڈر 1964

    اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل

    ساری دنیا کو محبت کی نشانی دی ہے

    اس کے سائے میں سدا پیار کے چرچے ہوں گے

    ختم جو ہو نہ سکے گی وہ کہانی دی ہے

    اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل

    تاج وہ شمع ہے الفت کے صنم خانے کی

    جس کے پروانوں میں مفلس بھی ہیں زردار بھی ہیں

    سنگ مرمر میں سمائے ہوئے خوابوں کی قسم

    مرحلے پیار کے آساں بھی ہیں دشوار بھی ہیں

    دل کو اک جوش ارادوں کو جوانی دی ہے

    اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل

    تاج اک زندہ تصور ہے کسی شاعر کا

    اس کا افسانہ حقیقت کے سوا کچھ بھی نہیں

    اس کے آغوش میں آ کر یہ گماں ہوتا ہے

    زندگی جیسے محبت کے سوا کچھ بھی نہیں

    تاج نے پیار کی موجوں کو روانی دی ہے

    اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل

    یہ حسیں رات یہ مہکی ہوئی پر نور فضا

    ہو اجازت تو یہ دل عشق کا اظہار کرے

    عشق انسان کو انسان بنا دیتا ہے

    کس کی ہمت ہے محبت سے جو انکار کرے

    آج تقدیر نے یہ رات سہانی دی ہے

    اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل

    ساری دنیا کو محبت کی نشانی دی ہے

    اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل.....

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نامعلوم

    نامعلوم

    نامعلوم

    نامعلوم

    نامعلوم

    نامعلوم

    نامعلوم

    نامعلوم

    نامعلوم

    نامعلوم

    نامعلوم

    نامعلوم

    نامعلوم

    نامعلوم

    نامعلوم

    نامعلوم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY