انکشاف

راشد آذر

انکشاف

راشد آذر

MORE BY راشد آذر

    سر بزم کل مجھے دیکھ کر

    وہ اسی خیال سے ڈر گئی

    کہ میں اس کی اور ہواؤں میں

    کہیں اپنا بوسہ اڑا نہ دوں

    وہ سمٹ کے اور سنور گئی

    کچھ عجیب خوف سا دل میں تھا

    مجھے دیکھ کر وہ پلٹ گئی

    نہ تو بھول ہے نہ تو یاد ہے

    یہ سپردگی کا تضاد ہے

    وہ کھڑے کھڑے جیسے سو گئی

    وہ تصورات میں کھو گئی

    وہ تصورات بھی خوب تھے

    میں درخت بن کے کھڑا رہا

    تو وہ بیل بن کے لپٹ گئی

    میں ترس رہا تھا سگندھ کو

    تو وہ شاخ گل سی لچک گئی

    مرا جھوٹ موٹ کا نشہ تھا

    مجھے دیکھ کر وہ بہک گئی

    بس اسی کا اس کو ملال تھا

    کہ وہ خواب تھا نہ خیال تھا

    پھر اچانک آ کے قریب ہی

    کیا جب کسی نے سوال تو

    وہ جو سوچ تھی وہ بکھر گئی

    میں سمجھ رہا تھا کہ خوش ہے وہ

    مگر اس کو دیکھ کے یوں لگا

    کہ یہ سوچنا مری بھول تھی

    مجھے دیکھ کر وہ ملول تھی

    RECITATIONS

    فہد حسین

    فہد حسین

    فہد حسین

    Inkishaf - Rashid Aazar فہد حسین

    مآخذ:

    • Book: Qarz-e-jan (Pg. 25)
    • Author: Rashid Azar
    • مطبع: Rashid Azar (2003)
    • اشاعت: 2003

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites