خواب ہستی

معین احسن جذبی

خواب ہستی

معین احسن جذبی

MORE BY معین احسن جذبی

    وہ زمانے اور تھے جب تیرا غم سہتا تھا میں

    جب ترے ہونٹوں کی رنگینی سے کچھ کہتا تھا میں

    جب ترے بالوں سے گھنٹوں کھیلتا رہتا تھا میں

    بھول جا اے دوست وہ رنگیں زمانے بھول جا

    یک بیک بجلی سی چمکی اور نشیمن لٹ گیا

    تو نے برسوں جس کو سینچا تھا وہ گلشن لٹ گیا

    تو نے موتی جس میں ٹانکے تھے وہ دامن لٹ گیا

    بھول جا اے دوست وہ رنگیں زمانے بھول جا

    تجھ کو جس دل سے محبت تھی وہ اب دل ہی نہیں

    رقص جس کا تجھ کو بھاتا تھا وہ بسمل ہی نہیں

    رنگ محفل تجھ سے کیا کہیے وہ محفل ہی نہیں

    بھول جا اے دوست وہ رنگیں زمانے بھول جا

    اب نہ وہ شوق تصور، اب نہ وہ ذوق فغاں

    مٹ رہے ہیں رفتہ رفتہ عہد رفتہ کے نشاں

    دھندلی دھندلی سی نظر آتی ہیں کچھ پرچھائیاں

    بھول جا اے دوست وہ رنگیں زمانے بھول جا

    یہ جوانی، یہ پریشانی، یہ پیہم اضطراب

    بارہا الجھن میں دوڑا ہوں سوئے جام شراب

    بارہا گھبرا کے چھیڑا ہے گناہوں کا رباب

    بھول جا اے دوست وہ رنگیں زمانے بھول جا

    رنگ صہبا اور ہے صہبا کی مستی اور ہے

    ذکر پستی اور ہے احساس پستی اور ہے

    خواب ہستی اور ہے تعبیر ہستی اور ہے

    بھول جا اے دوست وہ رنگیں زمانے بھول جا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY