خواب

MORE BYعادل زیدی

    میں نے خواب دیکھا تھا

    پانیوں کے پار اک دن

    بستی اک بساؤں گا

    جس کے رہنے والوں میں

    نفرتیں نہیں ہوں گی

    صرف قربتیں ہوں گی

    بس محبتیں ہوں گی

    یوں ہوا کہ پھر اک دن

    اک اڑن کھٹولے نے

    لا کھڑا کیا مجھ کو

    میری خواب بستی میں

    نا شناس بستی کے

    خوش نما مکانوں میں

    قربتیں تو کم کم تھیں

    دوریاں زیادہ تھیں

    اس سے پیشتر سارے

    فرد فرد گھٹ جائیں

    ان نئے مکانوں کے

    فاصلے سمٹ جائیں

    کاش سب مکیں اپنے

    ساختہ حصاروں سے

    ایک دن نکل آئیں

    اور میرے خوابوں کی

    دے دیں مجھ کو تعبیریں

    کاش خواب بستی اک

    بے مکان بستی ہو

    کاش سب مکاں اپنے

    گھر میں پھر بدل جائیں

    ایک ایسا گھر کہ جو

    پانیوں کے پار اک دن

    دوش پر ہو کہ میں

    پیچھے چھوڑ آیا تھا

    کاش کاش کی گردان

    خواب خواب یوں گونجی

    آنکھ کھل گئی صاحب

    آنکھ جب کھولی میں نے

    کچھ نئی دیواروں کے

    خود کو درمیاں پایا

    میں نئے جہاں میں تھا

    اک نئے مکاں میں تھا

    خواب میں نے دیکھا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے