خواب
سال نو سال امن کہلائے
کاش یہ سال ہم کو راس آئے
آنگنوں کے خزاں درختوں پر
جھوم کر خوشبوؤں کا بور آئے
امن کو دیر پا عروج ملے
ایٹمی دور کو زوال آئے
روشنی کی کوئی کرن پھوٹے
ظلمتوں میں دراڑ پڑ جائے
کسی انساں کے سامنے جا کر
کوئی انساں نہ ہاتھ پھیلائے
کوئی بھوکا نہ سوئے دنیا میں
رات بھر سب کو سکھ کی نیند آئے
آدمی آدمی کا ہو غم خوار
خانہ جنگی کو موت آ جائے
جس سے خوش حالیوں کا در وا ہو
ایسا بھرپور انقلاب آئے
زیست آزاد غم رہے بیدلؔ
کوئی خطرہ نہ سر پہ منڈلائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.