لینن

MORE BYعلامہ اقبال

    دلچسپ معلومات

    ( بال جبریل) خدا کے حضور میں

    اے انفس و آفاق میں پیدا تری آیات

    حق یہ ہے کہ ہے زندہ و پایندہ تری ذات

    میں کیسے سمجھتا کہ تو ہے یا کہ نہیں ہے

    ہر دم متغیر تھے خرد کے نظریات

    محرم نہیں فطرت کے سرود ازلی سے

    بینائے کواکب ہو کہ دانائے نباتات

    آج آنکھ نے دیکھا تو وہ عالم ہوا ثابت

    میں جس کو سمجھتا تھا کلیسا کے خرافات

    ہم بند شب و روز میں جکڑے ہوئے بندے

    تو خالق اعصار و نگارندۂ آنات

    اک بات اگر مجھ کو اجازت ہو تو پوچھوں

    حل کر نہ سکے جس کو حکیموں کے مقالات

    جب تک میں جیا خیمۂ افلاک کے نیچے

    کانٹے کی طرح دل میں کھٹکتی رہی یہ بات

    گفتار کے اسلوب پہ قابو نہیں رہتا

    جب روح کے اندر متلاطم ہوں خیالات

    وہ کون سا آدم ہے کہ تو جس کا ہے معبود

    وہ آدم خاکی کہ جو ہے زیر سماوات

    مشرق کے خداوند سفیدان فرنگی

    مغرب کے خداوند درخشندہ فلزات

    یورپ میں بہت روشنئ علم و ہنر ہے

    حق یہ ہے کہ بے چشمۂ حیواں ہے یہ ظلمات

    رعنائی تعمیر میں رونق میں صفا میں

    گرجوں سے کہیں بڑھ کے ہیں بنکوں کی عمارات

    ظاہر میں تجارت ہے حقیقت میں جوا ہے

    سود ایک کا لاکھوں کے لیے مرگ مفاجات

    یہ علم یہ حکمت یہ تدبر یہ حکومت

    پیتے ہیں لہو دیتے ہیں تعلیم مساوات

    بے کاری و عریانی و مے خواری و افلاس

    کیا کم ہیں فرنگی مدنیت کی فتوحات

    وہ قوم کہ فیضان سماوی سے ہو محروم

    حد اس کے کمالات کی ہے برق و بخارات

    ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت

    احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

    آثار تو کچھ کچھ نظر آتے ہیں کہ آخر

    تدبیر کو تقدیر کے شاطر نے کیا مات

    مے خانہ نے کی بنیاد میں آیا ہے تزلزل

    بیٹھے ہیں اسی فکر میں پیران خرابات

    چہروں پہ جو سرخی نظر آتی ہے سر شام

    یا غازہ ہے یا ساغر و مینا کی کرامات

    تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں

    ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات

    کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ

    دنیا ہے تری منتظر روز مکافات

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    ذوالفقار علی بخاری

    ذوالفقار علی بخاری

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    لینن نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY