میں اور میں!

ساقی فاروقی

میں اور میں!

ساقی فاروقی

MORE BY ساقی فاروقی

    میں ہوں میں

    وہ جس کی آنکھوں میں جیتے جاگتے درد ہیں

    درد کہ جن کی ہمراہی میں دل روشن ہے

    دل جس سے میں نے اک دن اک عہد کیا تھا

    عہد کہ دونوں ایک ہی آگ میں جلتے رہیں گے

    آگ کہ جس میں جل کر جسم ہوا خاکستر

    جسم کہ جس کے کچے زخم بہت دکھتے تھے

    زخم کہ جن کا مرہم وقت کے پاس نہیں ہے

    وقت کہ جس کی زد میں سارے سیارے ہیں

    سیارے جو قائم ہیں اپنی ہی کشش پر

    اور کشش کے تانے بانے ٹوٹ چلے ہیں

    کون تماشائی ہے؟ میں ہوں۔۔۔ اور تماشا

    میں ہوں میں!

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    میں اور میں! نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY