مستانہ ہیجڑا

ساقی فاروقی

مستانہ ہیجڑا

ساقی فاروقی

MORE BY ساقی فاروقی

    مولا تری گلی میں

    سردی برس رہی تھی

    شاید اسی سبب سے

    مستانہ ہیجڑا بھی

    وسکی پہن کے نکلا

    ٹینس کے بال

    کستی انگیا میں

    گھس گھسا کے

    پستان بن گئے تھے

    شہوت کے سرخ ڈورے

    سرمہ لگانے والی

    آنکھوں میں تن گئے تھے

    اک دم سے

    چلتے چلتے

    اس نے کمر کے جھٹکے سے

    راہ چلنے والے

    شہدوں، حرام خوروں

    سے التفات مانگا

    اور دعوت نظر دی

    اس کے ضخیم

    کولھوں نے

    آگ اور لذت

    خالی دلوں میں بھر دی

    اس نے ہتھیلیوں کے گدے

    رگڑ رگڑ کے

    وہ تالیاں اڑائیں

    مہندی کے رنگ

    تتلی بن کے ہوا میں

    اپنے پر تولنے لگے تھے

    پھر جان دار ہونٹوں

    سے پان دار بوسے

    چھن چھن چھلک چھلک کے

    ہر منچلی نظر میں

    رس گھولنے لگے تھے

    وہ آج لہر میں تھا

    مسی کی چھب دکھا کے

    نتھنے پھلا پھلا کے

    انگلی نچا نچا کے

    اس نے مزے میں آ کے

    ہنس کر کہا کہ ''سالو''

    میں تو جنم جنم سے

    اپنے ہی آنسوؤں میں

    ڈوبا ہوا پڑا ہوں

    شاید ضمیر عالم کے

    تنگ مقبرے میں

    زندہ گڑا ہوا ہوں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    مستانہ ہیجڑا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY