موت کی خوشبو

ساقی فاروقی

موت کی خوشبو

ساقی فاروقی

MORE BY ساقی فاروقی

    جدائی

    محبت کے دریائے خوں کی

    معاون ندی ہے

    وفا

    یاد کی شاخ مرجاں سے

    لپٹی ہوئی ہے

    دل آرام و عشاق سب

    خوف کے دائرے میں کھڑے ہیں

    ہواؤں میں بوسوں کی باسی مہک ہے

    نگاہوں میں خوابوں کے ٹوٹے ہوئے آئنے ہیں

    دلوں کے جزیروں میں

    اشکوں کے نیلم چھپے ہیں

    رگوں میں کوئی رود غم بہہ رہا ہے

    مگر درد کے بیج پڑتے رہیں گے

    مگر لوگ ملتے بچھڑتے رہیں گے

    یہ سب غم پرانے

    یہ ملنے بچھڑنے کے موسم پرانے

    پرانے غموں سے

    نئے غم الجھنے چلے ہیں

    لبوں پر نئے نیل

    دل میں نئے پیچ پڑنے لگے ہیں

    غنیم آسمانوں میں

    دشمن جہازوں کی سرگوشیاں ہیں

    ستاروں کی جلتی ہوئی بستیاں ہیں

    اور آنکھوں کے رادار پر

    صرف تاریک پرچھائیاں ہیں

    ہمیں موت کی تیز خوشبو نے پاگل کیا ہے

    امیدوں کی سرخ آب دوزوں میں سہمے

    تباہی کے کالے سمندر میں

    بہتے چلے جا رہے ہیں

    کراں تا کراں

    ایک گاڑھا کسیلا دھواں ہے

    زمیں تیری مٹی کا جادو کہاں ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    موت کی خوشبو نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY