نارسائی

میراجی

نارسائی

میراجی

MORE BYمیراجی

    رات اندھیری بن ہے سونا کوئی نہیں ہے ساتھ

    پون جھکولے پیڑ ہلائیں تھر تھر کانپیں پات

    دل میں ڈر کا تیر چبھا ہے سینے پر ہے ہاتھ

    رہ رہ کر سوچوں یوں کیسے پوری ہوگی رات

    برکھا رت ہے اور جوانی لہروں کا طوفان

    پیتم ہے نادان مرا دل رسموں سے انجان

    کوئی نہیں جو بات سجھائے کیسے ہوں سامان

    بھگون مجھ کو راہ دکھا دے مجھ کو دے دے گیان

    چپو ٹوٹے ناؤ پرانی دور ہے کھیون ہار

    بیری ہیں ندی کی موجیں اور پیتم اس پار

    سن لے سن کے دکھ میں پکارے اک پریمی بچارا

    کیسے جاؤں کیسے پہنچوں کیسے جتاؤں پیار

    کیسے اپنے دل سے مٹاؤں برہ اگن کا روگ

    کیسے سجھاؤں پریم پہیلی کیسے کروں سنجوگ

    بات کی گھڑیاں بیت نہ جایں دور ہے اس کا دیس

    دور دیس ہے پیتم کا اور میں بدلے ہوں بھیس

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے