موہنی بلی

میر تقی میر

موہنی بلی

میر تقی میر

MORE BY میر تقی میر

    INTERESTING FACT

    خدائے سخن میر تقی میرؔ بڑے شاعر تھے اور بڑوں کے شاعر تھے مگر ان کے کلام کی موہنی سے بچے بھی محروم نہیں ہیں۔ یہ نظم میرؔ نے بچوں کے لئے کہی تھی۔

    ایک بلی موہنی تھا اس کا نام

    اس نے میرے گھر کیا آ کر قیام

    ایک سے دو ہو گئی الفت گزیں

    کم بہت جانے لگی اٹھ کر کہیں

    بوریے پر میرے اس کی خواب گاہ

    دل سے میرے خاص اس کو ایک راہ

    میں نہ ہوں تو راہ دیکھے کچھ نہ کھائے

    جان پاوے سن مری آواز پائے

    بلّیاں ہوتی ہیں اچھی ہر کہیں

    یہ تماشا سا ہے بلی تو نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY