نام و نسب

علی اکبر ناطق

نام و نسب

علی اکبر ناطق

MORE BYعلی اکبر ناطق

    اے مرا نام و نسب پوچھنے والے سن لے

    میرے اجداد کی قبروں کے پرانے کتبے

    جن کی تحریر مہ و سال کے فتنوں کی نقیب

    جن کی بوسیدہ سلیں سیم زدہ شور زدہ

    اور آسیب زمانے کہ رہے جن کا نصیب

    پشت در پشت بلا فصل وہ اجداد مرے

    اپنے آقاؤں کی منشا تھی مشیت ان کی

    گر وہ زندہ تھے تو زندوں میں وہ شامل کب تھے

    اور مرنے پہ فقط بوجھ تھی میت ان کی

    جن کو مکتب سے لگاؤ تھا نہ مقتل کی خبر

    جو نہ ظالم تھے نہ ظالم کے مقابل آئے

    جن کی مسند پہ نظر تھی نہ ہی زنداں کا سفر

    اے مرا نام و نسب پوچھنے والے سن لے

    ایسے بے دام غلاموں کی نشانی میں ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے