نئے خاکے

کیفی اعظمی

نئے خاکے

کیفی اعظمی

MORE BY کیفی اعظمی

    INTERESTING FACT

    (گاندھی اور جناح کی ملاقات کے موقع پر)

    نقوش حسرت مٹا کے اٹھنا، خوشی کا پرچم اڑا کے اٹھنا

    ملا کے سر بیٹھنا مبارک ترانۂ فتح گا کے اٹھنا

    یہ گفتگو گفتگو نہیں ہے بگڑنے بننے کا مرحلہ ہے

    دھڑک رہا ہے فضا کا سینہ کہ زندگی کا معاملہ ہے

    خزاں رہے یا بہار آئے تمہارے ہاتھوں میں فیصلہ ہے

    نہ چین بے تاب بجلیوں کو نہ مطمئن کاروان شبنم

    کبھی شگوفوں کے گرم تیور کبھی گلوں کا مزاج برہم

    شگوفہ و گل کے اس تصادم میں گلستاں بن گیا جہنم

    سجا لیں سب اپنی اپنی جنت اب ایسے خاکے بنا کے اٹھنا

    خزانۂ رنگ و نور تاریک رہ گزاروں میں لٹ رہا ہے

    عروس گل کا غرور عصمت سیاہ کاروں میں لٹ رہا ہے

    تمام سرمایۂ لطافت ذلیل خاروں میں لٹ رہا ہے

    گھٹی گھٹی ہیں نمو کی سانسیں چھٹی چھٹی نبض گلستاں ہے

    ہیں گرسنہ پھول، تشنہ غنچے، رخوں پہ زردی لبوں پہ جاں ہے

    اسیر ہیں ہم صفیر جب سے خزاں چمن میں رواں دواں ہے

    اس انتشار چمن کی سوگند باب زنداں ہلا کے اٹھنا

    حیات گیتی کی آج بدلی ہوئی نگاہیں ہیں انقلابی

    افق سے کرنیں اتر رہی ہیں بکھیرتی نور کامیابی

    نئی سحر چاہتی ہے خوابوں کی بزم میں اذن باریابی

    یہ تیرگی کا ہجوم کب تک یہ یاس کا ازدحام کب تک

    نفاق و غفلت کی آڑ لے کر جئے گا مردہ نظام کب تک

    رہیں گے ہندی اسیر کب تک رہے گا بھارت غلام کب تک

    گلے کا طوق آ رہے قدم پر کچھ اس طرح تلملا کے اٹھنا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites