نئی محفل میں پہلی شناسائی

منیر نیازی

نئی محفل میں پہلی شناسائی

منیر نیازی

MORE BY منیر نیازی

    نئی جگہ تھی دور دور تک آخر پر دیواریں شب کی

    کچھ یاروں نے برپا کر دی اک محفل کچھ اپنے ڈھب کی

    اونچے در سے داخل ہو کر صاف نشیب میں بیٹھے جا کر

    ایک مقام میں ہوئے اکٹھے رونق اور ویرانی آ کر

    مرکز در سے جشن بپا تک سیر تھی شام مہر و وفا کی

    خوشی تھی اس سے ملنے جیسی بے چینی تھی ابر و ہوا کی

    سب رنگوں کے لوگ جمع تھے ایک ہی منزل تھی ان سب کی

    اک بستی آلام سے خالی ایک فضا کسی خواب طرب کی

    جنگل کی شادابی جیسا پہنا تھا کوئی جلوہ اس نے

    پیراہن اک نئی وضع کا کھلے سمندر جیسا اس نے

    کر رکھا تھا چہرہ اپنا دکھ مکھ سے بے پروا اس نے

    میری طرف تکنے سے پہلے چاروں جانب دیکھا اس نے

    مآخذ:

    • Book: kulliyat-e-muniir niyaazii (Pg. 160)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites