نیا شوالہ

علامہ اقبال

نیا شوالہ

علامہ اقبال

MORE BYعلامہ اقبال

    دلچسپ معلومات

    حصہ اول : 1905 تک ( بانگ درا)

    سچ کہہ دوں اے برہمن گر تو برا نہ مانے

    تیرے صنم کدوں کے بت ہو گئے پرانے

    اپنوں سے بیر رکھنا تو نے بتوں سے سیکھا

    جنگ و جدل سکھایا واعظ کو بھی خدا نے

    تنگ آ کے میں نے آخر دیر و حرم کو چھوڑا

    واعظ کا وعظ چھوڑا چھوڑے ترے فسانے

    پتھر کی مورتوں میں سمجھا ہے تو خدا ہے

    خاک وطن کا مجھ کو ہر ذرہ دیوتا ہے

    آ غیریت کے پردے اک بار پھر اٹھا دیں

    بچھڑوں کو پھر ملا دیں نقش دوئی مٹا دیں

    سونی پڑی ہوئی ہے مدت سے دل کی بستی

    آ اک نیا شوالہ اس دیس میں بنا دیں

    دنیا کے تیرتھوں سے اونچا ہو اپنا تیرتھ

    دامان آسماں سے اس کا کلس ملا دیں

    ہر صبح اٹھ کے گائیں منتر وہ میٹھے میٹھے

    سارے پجاریوں کو مے پیت کی پلا دیں

    شکتی بھی شانتی بھی بھگتوں کے گیت میں ہے

    دھرتی کے باسیوں کی مکتی پریت میں ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    عبد الاحد ساز

    عبد الاحد ساز

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY