اسے کہنا

عرش صدیقی

اسے کہنا

عرش صدیقی

MORE BYعرش صدیقی

    اسے کہنا دسمبر آ گیا ہے

    دسمبر کے گزرتے ہی برس اک اور ماضی کی گپھا میں ڈوب جائے گا

    اسے کہنا دسمبر لوٹ آئے گا

    مگر جو خون سو جائے گا جسموں میں نہ جائے گا

    اسے کہنا ہوائیں سرد ہیں اور زندگی کے کہرے دیواروں میں لرزاں ہیں

    اسے کہنا شگوفے ٹہنیوں میں سو رہے ہیں

    اور ان پر برف کی چادر بچھی ہے

    اسے کہنا اگر سورج نہ نکلے گا

    تو کیسے برف پگھلے گی

    اسے کہنا کہ لوٹ آئے

    مأخذ :
    • کتاب : Muntakhab Shahkar Nazmon Ka Album) (Pg. 369)
    • Author : Munavvar Jameel
    • مطبع : Haji Haneef Printer Lahore (2000)
    • اشاعت : 2000

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے