نذر ٹیگور

رفعت سروش

نذر ٹیگور

رفعت سروش

MORE BYرفعت سروش

    مری کلا میری شاعری میرے فن کا اس کو سلام پہنچے

    کہ جس نے مشرق کی عظمتوں کو عطا کئے زندگی کے پیکر

    جو سطوتیں خواب ہو چکی تھیں جو رفعتیں پست ہو چکی تھیں

    انہیں جگا کر انہیں سجا کر بنا دیا آسماں کا ہمسر

    بھٹک رہی تھی وطن کی ہستی غلام روحوں کے کارواں میں

    شعور آزادی اس کو دے کر بنا دیا عصر نو کا رہبر

    مری نواؤں میں شوخ طرز سخن کا اس کو سلام پہونچے

    کہ جس نے مشرق کی سرزمیں کو نئے جہاں کا افق بنایا

    نظام تحصیل علم بدلا نیا تصور ادب کو بخشا

    للت کلاؤں کو شانتی کے حسین عنوان سے سجایا

    شفق کی مہندی دھنک کے کنگن چرائے اور کہکشاں کی افشاں

    بڑے جتن سے حسینۂ شاعری کو جس نے دلہن بنایا

    سروشؔ میرے شعور کے بانکپن کا اس کو سلام پہنچے

    شراب مشرق کے جام چھلکائے جس نے مغرب کے مے کدوں میں

    مصور طلعت نگاراں مغنیٔ شوکت بہاراں

    ہیں موجزن کائنات کے دل کی دھڑکنیں جس کے چہچہوں میں

    سکوت شب رقص ماہ و انجم فضا کے شانے صبا کی زلفیں

    نگار فطرت کی ہر ادا کا جمال ہے جس کے زمزموں میں

    میں روح ٹیگور تیرے در پر عقیدت سر جھکا رہا ہوں

    ترے تصور میں نغمہ زن ہوں میں تیری ہی لے میں گا رہا ہوں

    ترے تخیل ترے تفکر ترے تدبر کے پھول چن کر

    میں اپنے فن اپنے دور اپنے وطن کی محفل سجا رہا ہوں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY