نطشے نے کہا

رئیس فروغ

نطشے نے کہا

رئیس فروغ

MORE BYرئیس فروغ

    وہ سب پرندے جو اڑ کے جاتے ہیں فاصلوں میں

    کہیں بہت دور فاصلوں میں

    سو ان کے بارے میں یہ تو سب جانتے ہیں، آخر کہیں کوئی ایک یا

    دوسری جگہ ایسی آ ہی جاتی ہے، وہ جہاں تھک کے بیٹھ جائیں

    وہ کوئی مستول یا کوئی بنجر چٹان ہوتی ہے جس کو پا کر وہ سوچتے ہیں

    کہ یہ بھی کچھ کم نہیں بہت ہے،

    مگر بھلا کون اس حقیقت کو جان کر یہ گماں کرے گا کہ ان سے آگے

    وہاں کشادہ فضا نہیں، یا وہ ایک ایسا مقام ہے، جس سے آگے

    پرواز کا کسی طرح کوئی امکان ہی نہیں ہے

    ہمارے سارے عظیم استاد اور سب پیش رو بھی آخر کہیں پہنچ کر

    ٹھہر گئے تھے

    سو ایسا ہی میرے ساتھ ہوگا

    سو ایسا ہی تیرے ساتھ ہوگا

    نئے پرندے تو آگے ہی جائیں گے

    مگر ہاں

    یہی بصیرت یہی یقیں ہم میں اور ان میں مقابلے کا سبب ہے

    جو ہم سے اور ہماری صلاحیت سے بلند ہو کر فضا کی وسعت میں دیکھتا ہے

    کہ کچھ پرندے ہیں ہم سے بڑھ کر جواں توانا

    اور ان توانا جواں پرندوں کے غول کوشاں ہیں آج بھی اس جگہ

    جہاں پر ہم اپنی ساری صلاحیت آزما چکے ہیں

    جہاں ہر اک چیز ہے سمندر

    جہاں ہر اک چیز ہے سمندر

    ہم اب کہاں جائیں

    یہ سمندر

    بتاؤ کیا ہم اسے کبھی پار کر سکیں گے

    یہ آرزو اب کہاں ہمیں لے کے جا رہی ہے

    اسی طرف کیوں

    کہ جس طرف جانے والے انسانیت کے سبب جگمگاتے خورشید

    چھپ گئے ہیں

    کبھی ہمارے لیے بھی شاید یہی کہا جائے گا کسی دن

    کہ ہم نے مغرب کی سمت گہرے سمندروں میں سفر کیا تھا

    امید یہ تھی کہ ہم کو مشرق میں اک نئی سرزمیں ملے گی

    مگر مقدر یہ تھا کہ اے دوست

    بے کرانی سے جا کے ٹکرائیں اور ہم پاش پاش ہو جائیں

    یا مرے دوست شاید.....

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY