نمائش میں

اسرار الحق مجاز

نمائش میں

اسرار الحق مجاز

MORE BY اسرار الحق مجاز

    وہ کچھ دوشیزگان ناز پرور

    کھڑی ہیں اک بساطی کی دکاں پر

    نظر کے سامنے ہے ایک محشر

    اور اک محشر ہے میرے دل کے اندر

    سنہرا کام رنگیں ساریوں پر

    بساط آسماں پر ماہ و اختر

    جمال و حسن کے پر رعب تیور

    نمایاں چاند سی پیشانیوں پر

    وہ رخساروں پہ ہلکی ہلکی سرخی

    لبوں میں پر فشاں روح گل تر

    سیہ زلفوں میں روح سنبلستاں

    نظر سر چشمۂ تسنیم و کوثر

    ادائے ناز غرق کیف صہبا

    سیہ مژگاں شراب آلودہ نشتر

    چمک تاروں کی چشم سرمگیں میں

    جھلک چاندی کی جسم مرمریں میں

    وہ خوشبو آ رہی ہے پیرہن سے

    فضا ہے دور تک جس سے معطر

    تبسم اور ہنسی کے نرم طوفاں

    فضاؤں میں مسلسل بارش زر

    نشاط رنگ و بو سے چور آنکھیں

    شراب ناب سے لبریز ساغر

    وہ محرابیں سی سینوں پر نمایاں

    فضائے نور میں کیوپڈ کے شہ پر

    نفس کے آمد و شد سے تلاطم

    شب مہتاب میں جیسے سمندر

    ستاروں کی نگاہیں جھک گئی ہیں

    زمیں پھر خندہ زن ہے آسماں پر

    کوئی آئینہ دار حسن فارس

    کسی میں حسن یونانی کے جوہر

    کسی میں عکس ''معصوم کلیسا''

    کسی میں پرتو اصنام آذر

    یہ شیریں ہے وہ نوشابہ ہے شاید

    نہیں یاں فرق فرہاد و سکندر

    یہ اپنے حسن میں عذرائے وامق

    وہ اپنے ناز میں سلمائے اخترؔ

    یہ تابانی میں خورشید درخشاں

    وہ رعنائی میں اس سے بھی فزوں تر

    ہنسی اس کی طلوع صبح خنداں

    نوا اس کی سرود کیف آور

    یہ شعلہ آفریں وہ برق افگن

    یہ آئینہ جبیں وہ ماہ پیکر

    وہ جنبش سی ہوئی کچھ آنچلوں کو

    وہ لہریں سی اٹھیں کچھ ساریوں پر

    خرام ناز سے نغمے جگاتی

    وہ چل دیں ایک جانب مسکرا کر

    کسی کی حسرتیں پامال کرتی

    کسی کی حسرتیں ہمراہ لے کر

    کبھی آنکھیں دکانوں پر جمی ہیں

    کبھی خود اپنی ہی برنائیوں پر

    ادھر ہم نے اک آہ سرد کھینچی

    ہنسی پھر آ گئی اپنے کئے پر

    مآخذ:

    • Book : Kulliyaat-e-Majaz (Pg. 95)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY