نوح کے بعد

سحر انصاری

نوح کے بعد

سحر انصاری

MORE BYسحر انصاری

    نقطۂ صفر پر وقت کا پاؤں تھا

    زد میں سیلاب کی جب ہر اک گاؤں تھا

    نوح نے اپنی کشتی کو تخلیق کی

    جملہ انواع سے بھر لیا

    ربع مسکوں کے سیلاب پر اپنی کشتی لیے

    کوہ جودی کی چوٹی کو سر کر لیا

    نوح کے واسطے جس پرندے کی منقار میں

    برگ زیتون تھا

    وہ امید مسلسل کا قانون تھا

    ہم جو کشتی سے اور برگ زیتون سے

    کوہ جودی سے محروم ہیں

    مبتلا ہم کو اس امتحاں میں کیا کس لیے

    اتنی لاشوں مکانوں کے ملبوں

    اکھڑتے درختوں سسکتے پرندوں

    شکستہ بدن ریوڑوں کو

    کہاں لے کے جائیں

    ہم تو سیلاب سے قبل بھی

    مستقل ایک سیلاب کی زد میں ہیں

    بھوک افلاس بیماریاں

    ظلم ناداریاں

    بد دیانت شبوں کی سیہ کاریاں

    ایک پر ہول سیلاب سے کم نہیں

    گردش روز و شب سے نکلتے ہوئے

    نوح نے راہ پالی تھی جینے کی خاطر

    اور طوفان بھی رک گیا تھا سفینے کی خاطر

    اب ہمارے لیے کوئی مرکب نہیں

    کوئی کشتی نہیں

    جس کے بل پر کہیں پار اتر جائیں ہم

    نقطۂ صفر پر وقت کے پاؤں کی طرح

    اک پل ٹھہر جائیں ہم

    جب یہ کچھ بھی میسر نہیں ہے تو پھر

    ہم کو فطرت کے قانون اب آزماتے ہیں کیوں

    نوح کے بعد طوفان آتے ہیں کیوں

    مآخذ:

    • کتاب : Asaleeb (Pg. 203)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY