پچاسی سال نیچے گر گئے

وحید احمد

پچاسی سال نیچے گر گئے

وحید احمد

MORE BYوحید احمد

    ضعیفی کی شکن آلود چادر سے بدن ڈھانپے

    وہ اپنی نوجواں پوتی کے ساتھ

    آہستہ آہستہ

    سڑک کے ایک جانب چل رہا تھا

    گماں ہوتا تھا

    جیسے دھوپ کے کاندھے پہ

    چھاؤں ہاتھ رکھے چل رہی ہے

    چیختی ایڑیوں پر کڑکڑاتی ہڈیاں گاڑے ہوئے

    وہ جسم کا ملبہ اٹھائے جا رہا تھا

    اگرچہ پاؤں جنبش کر رہے تھے

    مگر بوڑھی کمر اتنی خمیدہ تھی

    کہ ٹانگیں جھولتی بیساکھیاں معلوم ہوتی تھیں

    اچانک ایک جیپ آ کر رکی

    لڑکے نے شیشے کو اتارا اور دیکھا

    پھول پتلی شاخ سے لٹکا ہوا تھا

    خزانہ غار میں تھا

    اور دہانے پر فقط مکڑی کا جالا تھا

    ہرن پنجرے میں تھا

    اور اس کے دروازے پر زنگ آلود تالا تھا

    وہ بھوکے شیر کی مانند لپکا

    اور اس لڑکی کی

    نیلی کانچ میں لپٹی کلائی پر شکنجہ کس دیا

    بوڑھے نے کندھا چھوڑ کر اپنی کمر پر ہاتھ رکھے

    اپنی آنکھوں کو نظر دی

    اور اپنے پاؤں پر ٹانگیں لگا لیں

    بدن سالوں کی دیمک کی

    مسلسل کار فرمائی سے ڈھل جاتے ہیں

    لیکن غیرتیں بوڑھی نہیں ہوتیں

    نہ جانے وہ ہوا کا تیز جھونکا تھا

    یا بوڑھے پاؤں کے ہلکے توازن کی ڈھلائی تھی

    پھر لڑکے کے ہاتھوں کی درازی تھی

    کہ وہ بوڑھا

    بڑی ہی بے بسی کے ساتھ نیچے گر گیا

    اور اس کے ڈھلکے جسم نے

    کالی سڑک کے ساتھ ٹکراتے ہی اک آواز دی

    پچاسی سال نیچے گر گئے تھے

    کبھی جب زلزلہ آئے

    تو اس کی جھرجھری سی مختلف عمروں کے گھر

    گرتے ہیں اور آواز دیتے ہیں

    نئے سیمنٹ میں لپٹی نم عمارت گر پڑے

    تو گڑگڑاہٹ پھیل جاتی ہے

    پلازا منہدم ہو جائے تو اس کے دھماکے میں

    مسلسل چرچراہٹ

    ساتھ دیتی ہے

    مگر کوئی حویلی گر پڑے

    جس کے در و دیوار پر

    کائی اندھیرا گوندھ کے اپنی ہری پوروں سے ملتی ہے

    تو اس میں صدیاں بولتی ہیں

    اور گزری ساعتوں کی کانپتی خاموشیاں آواز دیتی ہیں

    جب اس نے ہاتھ سے دھرتی دبا کے

    کہنیوں کی آزمائش کی

    کہ شاید اس طرح وہ اٹھ سکے

    تو صرف اپنے سر کو گردن کا سہارا دے سکا

    بالوں کی لمبی ایک لٹ

    ماتھے پہ متوازی کھدی شکنوں میں

    چھپ کر کانپتی تھی

    اور کچھ بالوں کو تازہ چوٹ رنگیں کر گئی تھی

    تحیر بے بسی کے ساتھ

    آنکھوں کی نمی میں جذب ہو کر

    آہنی چشمے کے

    شیشوں میں لرزتا تھا

    کھلے ہونٹوں میں دانتوں کے شگافوں کو

    زباں پیوند کرتی تھی

    دہن کے نم کنارے

    کان کے بن

    سرخ رخساروں کے بل

    چاہ ذقن کے منہ سے لٹکے

    تہ بہ تہ گردن کے سلوٹ

    اور ان میں ڈولتے پانی کے قطرے

    سب کے سب ہلتے تھے

    بس رفتار میں اک دوسرے سے مختلف تھے

    حویلی گر گئی تھی

    عنابی گرد نے دیوار و در گہنا دئیے تھے

    فصیلیں سرمئی تالاب کے اندر گری تھیں

    حرم دروازہ پائیں باغ میں اوندھا پڑا تھا

    اور اس کی کیل میں الجھا ہوا

    باریک پردہ ہل رہا تھا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    پچاسی سال نیچے گر گئے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY