غریب کسان

ثاقب کانپوری

غریب کسان

ثاقب کانپوری

MORE BYثاقب کانپوری

    اے نیچر کے راج دلارے

    اے فطرت کی آنکھ کے تارے

    محنت کا پھل پانے والے

    کاندھے پر ہل لے جانے والے

    صدیاں پلٹیں دنیا بدلے

    یا ملکوں کا نقشہ بدلے

    کچھ سے کچھ ہوں رنگ فضا کے

    چرخ سے برسیں آگ کے شعلے

    دھیمی ہو یا تند ہوا ہو

    عالم ہر وادی کا نیا ہو

    چرخ ہزاروں پلٹے کھائے

    کیا ممکن جو تجھ کو ستائے

    سارے جہاں میں جنگ چھڑی ہو

    دنیا بھر میں آگ لگی ہو

    کیوں ہو شورش تیری صدا میں

    امن ہو جب کھیتوں کی فضا میں

    گیت ہی تیرا نغمۂ شادی

    تجھ پر صدقے ہر آزادی

    سب پر حاوی ہمت تیری

    سچی ہے یہ شوکت تیری

    وقت کو تو غفلت میں نہ کھوئے

    کھیت میں تو کانٹوں کو نہ بوئے

    گھاس ہے تیرا بستر مخمل

    اوڑھنے کو بوسیدہ کمل

    جنگل جھاڑی بستی تیری

    شاہ سے بہتر ہستی تیری

    تو ہے اور زمانہ تیرا

    ہم ہیں اور فسانہ تیرا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے