قریۂ ویراں

مختار صدیقی

قریۂ ویراں

مختار صدیقی

MORE BYمختار صدیقی

    جھلسے پیڑ جلی آبادی کھیتی سوکھی خرمن راکھ

    ہست و بود کا مدفن راکھ

    گرتے بام و در کے لیے گلیوں کا آغوش

    جیسے یہ دیواروں کو تھے کب سے وبال دوش

    بار ہٹا تو آیا ہوش

    پنگھٹ اور چوپال بھی سونے راہیں بھی سنسان

    گلیاں اور کوچے ویران

    جھونکے سوکھے پتے رولیں بکھری راکھ اڑائیں

    راکھ اور پتے بن کے بگولے اپنا ناچ دکھائیں

    اور وہیں رہ جائیں

    یہ بستی اب توڑ چکی ہے ہستی کی زنجیر گراں

    اور قیود زمان و مکاں

    وقت کے ڈاکو چکر اس کو بساط مطابق لوٹ چکے

    اس کے لیے ماحول و فضا کے سارے بندھن ٹوٹ چکے

    ماضی و حال بھی چھوٹ چکے

    کون آئے جو آ کر اس میں زیست کے رنگ بھرے

    کھیتوں کو سرسبز کرے

    گلی گلی اور کوچہ کوچہ پنگھٹ اور چوپال

    کھیلتے بچوں ہنستی جوانی سے کر دے چونچال

    زندہ کر دے ماضی و حال

    مأخذ :
    • کتاب : Muntakhab Shahkar Nazmon Ka Album) (Pg. 92)
    • Author : Munavvar Jameel
    • مطبع : Haji Haneef Printer Lahore (2000)
    • اشاعت : 2000

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY