شب ہجراں

محمد اظہار الحق

شب ہجراں

محمد اظہار الحق

MORE BY محمد اظہار الحق

    ہوا بے مہر تھی اس رات ٹھنڈی اور کٹیلی

    سانس لینا سر سے اونچی لہر سے ٹکر لگانا تھا

    صدا کوئی نہیں تھی

    سمت کی تعین مشکل تھی

    نشیبی بستیوں میں راستے اک دوسرے میں ختم ہوتے تھے

    تجھے کیا علم ہے وہ رات سرتاپا شب ہجراں ہمارے حق میں کیسی تھی

    لکیریں ہاتھ کی نا مہرباں

    ماتھا معیشت کی طرح تنگ اور گھر برکت سے چہرہ نور سے عاری

    گناہوں کا کیا مقدور تھا اچھا عمل بھی ہو نہیں پایا

    کسی بڑھیا کی کٹیا میں دیا جھاڑو

    نہ روئے با وضو ہو کر

    نہ کچھ ترتیل نہ تحلیل

    ہونٹوں سے دعا ہی پھوٹتی لیکن ہماری تیرہ روزی رات کے ہر برج پر

    بیدار اور چوکس تھی

    گاہے گاہے اک للکار آتی تھی ازل کی لوح سے

    اور ہم منوں مٹی کے نیچے سہم جاتے تھے

    ہوا بے مہر تھی اس رات ٹھنڈی کٹیلی

    سانس لینا سر سے اونچی لہر سے ٹکر لگانا تھا

    مآخذ:

    • Book: meyaar (Pg. 136)
    • Book: meyaar136

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites