شکست زنداں کا خواب

جوشؔ ملیح آبادی

شکست زنداں کا خواب

جوشؔ ملیح آبادی

MORE BYجوشؔ ملیح آبادی

    INTERESTING FACT

    "this was the first revolutionary poem of josh malihabadi which was full of zeal of freedom movment. this was new trend in urdu poetry" sardar jafry

    کیا ہند کا زنداں کانپ رہا ہے گونج رہی ہیں تکبیریں

    اکتائے ہیں شاید کچھ قیدی اور توڑ رہے ہیں زنجیریں

    دیواروں کے نیچے آ آ کر یوں جمع ہوئے ہیں زندانی

    سینوں میں تلاطم بجلی کا آنکھوں میں جھلکتی شمشیریں

    بھوکوں کی نظر میں بجلی ہے توپوں کے دہانے ٹھنڈے ہیں

    تقدیر کے لب کو جنبش ہے دم توڑ رہی ہیں تدبیریں

    آنکھوں میں گدا کی سرخی ہے بے نور ہے چہرہ سلطاں کا

    تخریب نے پرچم کھولا ہے سجدے میں پڑی ہیں تعمیریں

    کیا ان کو خبر تھی زیر و زبر رکھتے تھے جو روح ملت کو

    ابلیں گے زمیں سے مار سیہ برسیں گی فلک سے شمشیریں

    کیا ان کو خبر تھی سینوں سے جو خون چرایا کرتے تھے

    اک روز اسی بے رنگی سے جھلکیں گی ہزاروں تصویریں

    کیا ان کو خبر تھی ہونٹوں پر جو قفل لگایا کرتے تھے

    اک روز اسی خاموشی سے ٹپکیں گی دہکتی تقریریں

    سنبھلو کہ وہ زنداں گونج اٹھا جھپٹو کہ وہ قیدی چھوٹ گئے

    اٹھو کہ وہ بیٹھیں دیواریں دوڑو کہ وہ ٹوٹی زنجیریں

    مآخذ :
    • کتاب : Azadi Ke Bad Urdu Nazam (Pg. 11)
    • Author : Shamim Hanfi and Mazhar Mahdi
    • مطبع : qaumi council baraye-farogh urdu (2005)
    • اشاعت : 2005

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY