ترک محبت کے بعد

احمد ندیم قاسمی

ترک محبت کے بعد

احمد ندیم قاسمی

MORE BYاحمد ندیم قاسمی

    غیر کی ہو کے بھی تم میری محبت چاہو

    اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں یہ تارے کیسے

    فرش پر جس کو ابھی تک نہ ملی جائے پناہ

    عرش سے چاند کا ایوان اتارے کیسے

    جس کی راہوں پہ بھٹکتے ہوئے جگ بیتے ہیں

    پھر اسی دشت کو بد بخت سدھارے کیسے

    قافلے آئے گئے گرد اٹھی بیٹھ گئی

    اب مسافر کو افق پر سے اشارے کیسے

    جن کی تقدیر میں تھا دامن گلچیں کا مزار

    وہ شگوفے تو پرائے ہیں ہمارے کیسے

    پیش کر سکتا ہوں لیکن تجھے بہلانے کو

    چاندنی رات میں مچلے ہوئے رومان کی یاد

    بید مجنوں کے طلسمات سے پل پل چھنتی

    آسمانوں کو لپکتی ہوئی اک تان کی یاد

    میری وارفتگئ شوق کی سن کر روداد

    تری آنکھوں میں دمکتے ہوئے ارمان کی یاد

    دونوں چہروں پہ شفق دونوں جبینوں پہ عرق

    دونوں سینوں میں دھڑکتے ہوئے ہیجان کی یاد

    کون ہیں آپ مری زیست کی تنہائی ساتھی

    پہلی پہچان کی یاد آخری پیمان کی یاد

    مآخذ:

    • کتاب : Muntakhab Shahkar Nazmon Ka Album) (Pg. 74)
    • Author : Munavvar Jameel
    • مطبع : Haji Haneef Printer Lahore (2000)
    • اشاعت : 2000

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY