توجیہہ

ساقی فاروقی

توجیہہ

ساقی فاروقی

MORE BY ساقی فاروقی

    تو کیا دیکھتا ہوں

    فضا نور ہی نور تھی

    پہاڑ اپنے اندر سے پھوٹے ہوئے درد

    سے جل رہا تھا

    پڑوسی سمندر سنہرا ہوا تھا

    بشارت ملی تھی

    ننوں، کاہنوں کے برہنہ ہجوم

    داہنے ہاتھ میں اپنے غم

    اور بائیں میں اپنے سوال

    اور رانوں میں گھوڑوں کی پیٹھیں پہن کر

    نکل آئے تھے

    روشنی کی طرف

    خامشی سے بڑھے جا رہے تھے

    خنک اور حیران آنکھوں سے

    ٹکرا کے واپس پلٹتی شعاعوں سے

    اندھی چٹانوں کے خم جل اٹھے تھے

    تو کیا دیکھتا ہوں

    وہ چوٹی کے پاس

    پہنچ کر لرزنے لگے تھے

    دھماکہ ہوا تھا

    عجب ایک سیال ملغوبہ

    ان کی طرف بڑھ رہا تھا

    اسی تیل میں بھیگ کے

    ایک زیتون کا پیڑ

    مشعل بنا جل رہا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY