حرف آخر

MORE BYعلی سردار جعفری

    یہ آدمی کی گزر گاہ شاہراہ حیات

    ہزاروں سال کا بار گراں اٹھائے ہوئے

    جبیں پہ کاتب تقدیر کی جلی تحریر

    گلے سے سیکڑوں نقش قدم لگائے ہوئے

    گزرتے وقت کے گرد و غبار کے نیچے

    حسین جسم کی تابندگی چھپائے ہوئے

    گزشتہ دور کی تہذیب کی منازل کو

    جوان ماں کی طرح گود میں سلائے ہوئے

    یہ آدمی کی گزر گاہ شاہراہ حیات

    ہزاروں سال کا بار گراں اٹھائے ہوئے

    ادھر سے گزرے ہیں چنگیز و نادر و تیمور

    لہو میں بھیگی ہوئی مشعلیں جلائے ہوئے

    غلاموں اور کنیزوں کے کارواں آئے

    خود اپنے خون میں ڈوبے ہوئے نہائے ہوئے

    شکستہ دوش پہ دیوار چین کو لادے

    سروں پہ مصر کے احرام کو اٹھائے ہوئے

    جلال شیخ و شکوہ برہمنی کے جلوس

    ہوس کے سینوں میں آتش کدے چھپائے ہوئے

    جہالتوں کی طویل و عریض پرچھائیں

    توہمات کی تاریکیاں جگائے ہوئے

    سفید قوم کے عیار تاجروں کے گروہ

    فریب و مکر سے اپنی دکاں سجائے ہوئے

    شکست خوردہ سیاسی گداگروں کے ہجوم

    ادب سے ٹوٹی ہوئی گردنیں جھکائے ہوئے

    غموں سے چور مسافر تھکے ہوئے راہی

    چراغ روح کے دل کے کنول بجھائے ہوئے

    یہ آدمی کی گزر گاہ شاہراہ حیات

    ہزاروں سال کا بار گراں اٹھائے ہوئے

    نئے افق سے نئے قافلوں کی آمد ہے

    چراغ وقت کی رنگین لو بڑھائے ہوئے

    بغاوتوں کی سپہ انقلاب کے لشکر

    زمیں پہ پاؤں فلک پہ نظر جمائے ہوئے

    غرور فتح کے پرچم ہوا میں لہراتے

    ثبات و عزم کے اونچے علم اٹھائے ہوئے

    ہتھیلیوں پہ لیے آفتاب اور مہتاب

    بغل میں کرۂ ارض حسیں دبائے ہوئے

    اٹھو اور اٹھ کے انہیں قافلوں میں مل جاؤ

    جو منزلوں کو ہیں گرد سفر بنائے ہوئے

    قدم بڑھائے ہوئے ہیں مجاہدان وطن

    مجاہدان‌ وطن ہیں قدم بڑھائے ہوئے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    علی سردار جعفری

    علی سردار جعفری

    مآخذ:

    • کتاب : kulliyat ali sardar jafari.1 (Pg. 271)
    • Author : ali ahmad fatmi
    • مطبع : NCPUL (2004)
    • اشاعت : 1100

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY