لہو پکارتا ہے

علی سردار جعفری

لہو پکارتا ہے

علی سردار جعفری

MORE BYعلی سردار جعفری

    لہو پکارتا ہے

    ہر طرف پکارتا ہے

    سحر ہو، شام ہو، خاموشی ہو کہ ہنگامہ

    جلوس غم ہو کہ بزم نشاط آرائی

    لہو پکارتا ہے

    لہو پکارتا ہے جیسے خشک صحرا میں

    پکارا کرتے تھے پیغمبران اسرائیل

    زمیں کے سینے سے اور آستین قاتل سے

    گلوئے کشتہ سے بے حس زبان خنجر سے

    صدا لپکتی ہے ہر سمت حرف حق کی طرح

    مگر وہ کان جو بہرے ہیں سن نہیں سکتے

    مگر وہ قلب جو سنگیں ہیں ہل نہیں سکتے

    کہ ان میں اہل ہوس کی صدا کا سیسہ ہے

    وہ جھکتے رہتے ہیں لب ہائے اقتدار کی سمت

    وہ سنتے رہتے ہیں بس حکم حاکمان جہاں

    طواف کرتے ہیں ارباب گیر و دار کے گرد

    مگر لہو تو ہے بے باک و سرکش و چالاک

    یہ شعلہ مے کے پیالے میں جاگ اٹھتا ہے

    لباس اطلس و دیبا میں سرسراتا ہے

    یہ دامنوں کو پکڑتا ہے شاہراہوں میں

    کھڑا ہوا نظر آتا ہے داد گاہوں میں

    زمیں سمیٹ نہ پائے گی اس کی بانہوں میں

    چھلک رہے ہیں سمندر سرک رہے ہیں پہاڑ

    لہو پکار رہا ہے لہو پکارے گا

    یہ وہ صدا ہے جسے قتل کر نہیں سکتے

    مآخذ:

    • کتاب : Ek Khvab aur (Pg. 7)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY