ٹوٹے ہوئے تارے

مخدومؔ محی الدین

ٹوٹے ہوئے تارے

مخدومؔ محی الدین

MORE BYمخدومؔ محی الدین

    نوائے درد مری کہکشاں میں ڈوب گئی

    وہ چاند تاروں کی سیل رواں میں ڈوب گئی

    سمن بران فلک نے شرر کو دیکھ لیا

    زمین والوں کے دل کو نظر کو دیکھ لیا

    وہ میری آہ کا شعلہ تھا کوئی تارہ نہ تھا

    وہ خاکداں کا مسافر تھا ماہ پارہ نہ تھا

    دلوں میں بیٹھ گیا تیر آرزو بن کر

    فلک پہ پھیل گیا عشق کا لہو بن کر

    یہ ساکنان فلک درد و غم کو کیا جانیں

    یہ خاکیوں کے رہ بیش و کم کو کیا جانیں

    وہ غم کو پی تو گئے آنسوؤں کو پی نہ سکے

    زمیں کے زہر کو پی کر وہ اور جی نہ سکے

    فلک سے گرنے لگے ٹوٹ ٹوٹ کر تارے

    زمیں پہ ڈھیر ہوئے تیر آہ کے مارے

    یہ آگ اور بھی اوپر نکل گئی ہوتی

    حریم عرش کو چھو کر نکل گئی ہوتی

    مآخذ:

    • کتاب : meri behtareen nazam (Pg. 112)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY