ایک سور سے

ساقی فاروقی

ایک سور سے

ساقی فاروقی

MORE BYساقی فاروقی

    وہ طلسمی دوپہر تھی

    سانس لیتے گھاس کے میدان میں

    سبز مٹی سے شعاعیں اگ رہی تھیں

    اور تم کرنوں میں

    اپنے تھوتھنے گاڑے ہوئے

    دندناتے پھر رہے تھے

    میں تمہاری جان کا دشمن

    انا کے ہش پپی جوتے پہن کر

    اپنے کینے کا نیا کمپا لیے

    برتری کے بنچ پر

    محجوب سا بیٹھا ہوا

    اک پرانے جھوٹ سے

    دامن چھڑانا چاہتا تھا

    میں نے دھیرے سے تمہیں آواز دی۔۔۔

    آواز دی تو

    اپنی ٹیڑھی میڑھی آنکھوں سے

    مجھے تم نے عجب عالم میں دیکھا تھا کہ بس

    میں جی پڑا تھا

    میری آنکھیں جگمگا اٹھی تھیں

    میرے اندر تتلیاں اڑنے لگی تھیں

    اور ملن کی اس گھڑی میں

    اس سنہرے دن کے پس منظر میں

    تم حیراں سے

    اپنی دھن میں

    اپنی جاوداں بد صورتی میں

    ایک چیتے کی طرح سے خوبصورت لگ رہے تھے

    ڈرتے ڈرتے

    حیرتی رڈ انڈین امریکیوں کی طرح

    دھرتی کی دھمک سنتے ہوئے

    تم پاس آئے

    پاس آکر بے یقینی سے مجھے تکنے لگے تھے

    میں تمہیں تسکین دینا۔۔۔

    ۔۔۔پھر سے بھل منسی کا رشتہ جوڑ لینا چاہتا تھا

    اور اپنے سنگ بستہ ہاتھ سے

    جب تمہیں سہلا رہا تھا

    اور تمہارے کھردرے بالوں میں

    اپنی انگلیاں الجھا رہا تھا

    ایک البیلی مسرت

    اک نئی لذت ملی

    وہ جو نفرت کی کمانی

    دل کی تہہ میں گڑ گئی تھی

    ٹوٹتی جاتی تھی

    میرے اندر کی کلیں کھلنے لگی تھی

    میں پگھلتا جا رہا تھا

    وہ ہماری دوستی۔۔۔

    وہ ہماری فتح مندی کا جنم دن۔۔۔

    وہ طلسمی دوپہر۔۔۔

    ۔۔۔سانس لیتے گھاس کے میدان میں

    سبز مٹی سے شعاعیں اگ رہی تھیں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    ایک سور سے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY