چیونٹی بھر آٹا

سارا شگفتہ

چیونٹی بھر آٹا

سارا شگفتہ

MORE BYسارا شگفتہ

    ہم کس دکھ سے اپنے مکان فروخت کرتے ہیں

    اور بھوک کے لئے چیونٹی بھر آٹا خریدتے ہیں

    ہمیں بند کمروں میں کیوں پرو دیا گیا ہے

    ایک دن کی عمر والے تو ابھی دروازہ تاک رہے ہیں

    چال لہو کی بوند بوند مانگ رہی ہے

    کسی کو چرانا ہو تو سب سے پہلے اس کے قدم چراؤ

    تم چیتھڑے پر بیٹھے زبان پہ پھول ہو

    اور آواز کور سی کور

    انسان کا پیالہ سمندر کے پیالے سے مٹی نکالتا ہے

    مٹی کے سانپ بناتا ہے اور بھوک پالتا ہے

    تنکے جب شعاعوں کی پیاس نہ بجھا سکے تو آگ لگی

    میں نے آگ کو دھویا اور دھوپ کو سکھایا

    سورج جو دن کا سینہ جلا رہا تھا

    آسمانی رنگ سے بھر دیا

    اب آسمان کی جگہ کورا کاغذ بچھا دیا گیا

    لوگ موسم سے دھوکا کھانے لگے

    پھر ایک آدمی کو توڑ کر میں نے سورج بنایا

    لوگوں کی پوریں کنویں میں بھر دیں

    اور آسمان کو دھاگہ کیا

    کائنات کو نئی کروٹ نصیب ہوئی

    لوگوں نے اینٹوں کے مکان بنانا چھوڑ دئے

    آنکھوں کی زبان درازی رنگ لائی

    اب ایک قدم پہ دن اور ایک قدم پہ رات ہوتی

    حال جرأت گذشتہ ہے

    آ تیرے بالوں سے شعاعوں کے الزام اٹھا لوں

    تم اپنی صورت پہاڑ کی کھوہ میں اشارہ کر آئے

    کند ہواؤں کا اعتراف ہے

    سفر ایڑی پہ کھڑا ہوا

    سمندر اور مٹی نے رونا شروع کر دیا ہے

    بیلچے اور بازو کو دو بازو تصور کرنا

    سورج آسمان کے کونے کے ساتھ لٹکا ہوا تھا

    اور اپنی شعاعیں اپنے جسم کے گرد لپیٹ رکھی تھیں

    میں نے خالی کمرے میں معافی رکھی

    اور میرا سینہ دوسروں کے دروازے پر دھڑکتا رہا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY