عمر گریزاں کے نام

اختر الایمان

عمر گریزاں کے نام

اختر الایمان

MORE BY اختر الایمان

    عمر یوں مجھ سے گریزاں ہے کہ ہر گام پہ میں

    اس کے دامن سے لپٹتا ہوں مناتا ہوں اسے

    واسطہ دیتا ہوں محرومی و ناکامی کا

    داستاں آبلہ پائی کی سناتا ہوں اسے

    خواب ادھورے ہیں جو دہراتا ہوں ان خوابوں کو

    زخم پنہاں ہیں جو وہ زخم دکھاتا ہوں اسے

    اس سے کہتا ہوں تمنا کے لب و لہجے میں

    اے مری جان مری لیلئی تابندہ جبیں

    سنتا ہوں تو ہے مری لیلیٔ تابندہ جبیں

    سنتا ہوں تو ہے مہ و مہر سے بھی بڑھ کے حسیں

    یوں نہ ہو مجھ سے گریزاں کہ ابھی تک میں نے

    جاننا تجھ کو کجا پاس سے دیکھا بھی نہیں

    صبح اٹھ جاتا ہوں جب مرغ اذاں دیتے ہیں

    اور روٹی کے تعاقب میں نکل جاتا ہوں

    شام کو ڈھور پلٹتے ہیں چرا گاہوں سے جب

    شب گزاری کے لیے میں بھی پلٹ آتا ہوں

    یوں نہ ہو مجھ سے گریزاں مرا سرمایہ ابھی

    خواب ہی خواب ہیں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں

    ملتوی کرتا رہا کل پہ تری دید کو میں

    RECITATIONS

    اختر الایمان

    اختر الایمان

    اختر الایمان

    عمر گریزاں کے نام اختر الایمان

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY