Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اردو

MORE BYمنظر بھوپالی

    زبان ہند ہے اردو تو ماتھے کی شکن کیوں ہے

    وطن میں بے وطن کیوں ہے

    مری مظلوم اردو تیری سانسوں میں گھٹن کیوں ہے

    تیرا لہجہ مہکتا ہے تو لفظوں میں تھکن کیوں ہے

    اگر تو پھول ہے تو پھول میں اتنی چبھن کیوں ہے

    وطن میں بے وطن کیوں ہے

    یہ نانکؔ کی یہ خسروؔ کی دیاشنکرؔ کی بولی ہے

    یہ دیوالی یہ بیساکھی یہ عید الفطر ہولی ہے

    مگر یہ دل کی دھڑکن آج کل دل کی جلن کیوں ہے

    وطن میں بے وطن کیوں ہے

    یہ نازوں کی پلی تھی میرؔ کے غالبؔ کے آنگن میں

    جو سورج بن کے چمکی تھی کبھی محلوں کے دامن میں

    وہ شہزادی زبانوں کی یہاں بے انجمن کیوں ہے

    وطن میں بے وطن کیوں ہے

    محبت کا سبھی اعلان کر جاتے ہیں محفل میں

    کہ اس کے واسطے جذبہ ہے ہمدردی کا ہر دل میں

    مگر حق مانگنے کے وقت یہ بیگانہ پن کیوں ہے

    وطن میں بے وطن کیوں ہے

    یہ دوشیزہ جو بازاروں سے اٹھلاتی گزرتی تھی

    لبوں کی نازکی جس کی گلابوں سی بکھرتی تھی

    جو تہذیبوں کے سر کی اوڑھنی تھی اب کفن کیوں ہے

    وطن میں بے وطن کیوں ہے

    محبت کا اگر دعویٰ ہے تو اس کو بچاؤ تم

    جو وعدہ کل کیا تھا آج وہ وعدہ نبھاؤ تم

    اگر تم رام ہو تو پھر یہ راون کا چلن کیوں ہے

    وطن میں بے وطن کیوں ہے

    موضوعات

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے