یہ رات

خلیل مامون

یہ رات

خلیل مامون

MORE BYخلیل مامون

    یہ رات ہے یا حیات ہے پل صراط ہے

    اندھیرے میں لمحوں کی تیز دھار پر چلے ہوئے

    ہلکی آنکھ ملتے ہوئے

    لہولہان قدم

    لیکن کٹ کر گرتے ہیں نہیں

    کرتے بھی نہیں

    زخمی پیر لیے ابھی اور کتنی دور چلنا ہے

    معلوم نہیں

    اس راستے کی سرحد

    ہمیشہ نزدیک دکھائی دیتی ہے

    لیکن نزدیک پہنچتے ہی معدوم ہو جاتی ہے

    اور ہم ایک اور راستہ

    ایک اور رہ گزار ابھر آتی ہے

    شاید یہی منزل بھی ہے اور یہی راستہ بھی ہے

    شاید یہی اس زندگی کا ساحل بھی ہے

    کہ ہم چلتے رہیں

    خاموش یا پھر چلاتے یا گاتے ہوئے

    خود اپنے آپ کو کوئی گیت کوئی نغمہ

    سناتے ہوئے

    گانے والے بھی ہم سننے والے بھی ہم

    ہماری دعائیں بھی تھی

    ہماری زبان سے نکل کر ہمارے

    دل تک ہی جاتی ہیں

    دل اگر سن لے تو دعاؤں میں اثر آ جاتا ہے

    نہ سنے تو ہم ہاتھ اوپر اٹھا کر نیچے گراتے رہتے ہیں

    اور روتے رہتے ہیں

    اس رات کے اندھیارے میں

    کھلے ہوئے زخموں کے پھول بھی ہمارے

    ہماری آہوں کے کانٹے بھی ہمارے

    ہم تمہارے تم بھی ہمارے

    خوشیاں بھی اپنی غم بھی ہمارے

    اس پھول اور دھول سے نکل جانے کے بعد

    پل صراط سے پھسل جانے کے بعد

    تقدیر سنبھل جانے کے بعد

    جب آنکھ کھلے گی

    تو کوئی پھولوں کی بیچ ہماری منتظر نہ ہوگی

    ہماری نیندوں میں

    کوئی ہنستا ہوا خواب نہیں آئے گا

    ہمارے ہاتھوں میں کوئی گلاب نہیں آئے گا

    ہمارے سامنے کوئی بام شراب

    اور بانہوں میں کوئی شہاب نہیں آئے گا

    آئے گا تو

    اک مہیب سناٹا

    اک لمبی خاموشی

    اک نہ سنائی دینے والی آواز

    اک نہ دکھائی دینے والا خلا

    جس میں نہ ہم ہیں

    نہ ہمارا سایہ ہوگا

    نہ ہونے کا علم

    نہ ہونے کا احساس

    ایک ایسا لمبا پل

    جس کی کہانی ہم اپنے دوسرے شہر میں بھی

    سنا نہ پائیں گے

    ہم وہاں سے لوٹ کر

    دوبارہ یہاں آ نہ پائیں گے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY