ماں پر شاعری

مہابوب ماں شیاری میں بھی ہے. اس پاکی پہی محبوب کی سجفا غضبوں میں استعمال نہیں کیا گیا تھا، نہ کسی دوسرے نشان میں. ہم آپ کو اس طرح کے ایک ناقابل یقین شخص تک پہنچ رہے ہیں جو ماں کو نیا شخص بناتا ہے. ماں اپنے بچوں کے لئے اس کے اور اس کے بچوں کی محبت، محبت اور پیار سے محبت کرتا ہے. آپ اس شکایات کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے ہیں کہ یہ اشراق جہاد کی بصیرت اور گہری بصیرت کا احساس ان کرداروں کا مطالعہ کریں اور ان کی ماں کو پیار کرنے والوں میں فرق کرو.

آج پھر ماں مجھے مارے گی بہت رونے پر

آج پھر گاؤں میں آیا ہے کھلونے والا

نامعلوم

اب اک رومال میرے ساتھ کا ہے

جو میری والدہ کے ہاتھ کا ہے

سید ضمیر جعفری

ابھی زندہ ہے ماں میری مجھے کچھ بھی نہیں ہوگا

میں گھر سے جب نکلتا ہوں دعا بھی ساتھ چلتی ہے

منور رانا

اے رات مجھے ماں کی طرح گود میں لے لے

دن بھر کی مشقت سے بدن ٹوٹ رہا ہے

تنویر سپرا

بچے فریب کھا کے چٹائی پہ سو گئے

اک ماں ابالتی رہی پتھر تمام رات

نامعلوم

بہن کی التجا ماں کی محبت ساتھ چلتی ہے

وفائے دوستاں بہر مشقت ساتھ چلتی ہے

سید ضمیر جعفری

برباد کر دیا ہمیں پردیس نے مگر

ماں سب سے کہ رہی ہے کہ بیٹا مزے میں ہے

منور رانا

بوسے بیوی کے ہنسی بچوں کی آنکھیں ماں کی

قید خانے میں گرفتار سمجھئے ہم کو

فضیل جعفری

بوڑھی ماں کا شاید لوٹ آیا بچپن

گڑیوں کا انبار لگا کر بیٹھ گئی

ارشاد خان سکندر

چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے

میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے

منور رانا

دن بھر کی مشقت سے بدن چور ہے لیکن

ماں نے مجھے دیکھا تو تھکن بھول گئی ہے

منور رانا

دعا کو ہات اٹھاتے ہوئے لرزتا ہوں

کبھی دعا نہیں مانگی تھی ماں کے ہوتے ہوئے

افتخار عارف

دور رہتی ہیں سدا ان سے بلائیں ساحل

اپنے ماں باپ کی جو روز دعا لیتے ہیں

محمد علی ساحل

ایک لڑکا شہر کی رونق میں سب کچھ بھول جائے

ایک بڑھیا روز چوکھٹ پر دیا روشن کرے

عرفانؔ صدیقی

ایک مدت سے مری ماں نہیں سوئی تابشؔ

میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

عباس تابش

گھر لوٹ کے روئیں گے ماں باپ اکیلے میں

مٹی کے کھلونے بھی سستے نہ تھے میلے میں

قیصر الجعفری

گھر سے نکلے ہوئے بیٹوں کا مقدر معلوم

ماں کے قدموں میں بھی جنت نہیں ملنے والی

افتخار عارف

ہوا دکھوں کی جب آئی کبھی خزاں کی طرح

مجھے چھپا لیا مٹی نے میری ماں کی طرح

نامعلوم

اس لیے چل نہ سکا کوئی بھی خنجر مجھ پر

میری شہ رگ پہ مری ماں کی دعا رکھی تھی

نظیر باقری

اس طرح میرے گناہوں کو وہ دھو دیتی ہے

ماں بہت غصے میں ہوتی ہے تو رو دیتی ہے

منور رانا

جب بھی کشتی مری سیلاب میں آ جاتی ہے

ماں دعا کرتی ہوئی خواب میں آ جاتی ہے

منور رانا

جب چلی ٹھنڈی ہوا بچہ ٹھٹھر کر رہ گیا

ماں نے اپنے لعل کی تختی جلا دی رات کو

سبط علی صبا

کل اپنے آپ کو دیکھا تھا ماں کی آنکھوں میں

یہ آئینہ ہمیں بوڑھا نہیں بتاتا ہے

منور رانا

کس شفقت میں گندھے ہوئے مولا ماں باپ دیے

کیسی پیاری روحوں کو میری اولاد کیا

انجم سلیمی

کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکاں آئی

میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا مرے حصے میں ماں آئی

منور رانا

کتابوں سے نکل کر تتلیاں غزلیں سناتی ہیں

ٹفن رکھتی ہے میری ماں تو بستہ مسکراتا ہے

سراج فیصل خان

میں نے کل شب چاہتوں کی سب کتابیں پھاڑ دیں

صرف اک کاغذ پہ لکھا لفظ ماں رہنے دیا

منور رانا

میں نے ماں کا لباس جب پہنا

مجھ کو تتلی نے اپنے رنگ دیے

فاطمہ حسن

ماں باپ اور استاد سب ہیں خدا کی رحمت

ہے روک ٹوک ان کی حق میں تمہارے نعمت

الطاف حسین حالی

ماں خواب میں آ کر یہ بتا جاتی ہے ہر روز

بوسیدہ سی اوڑھی ہوئی اس شال میں ہم ہیں

منور رانا

ماں کی آغوش میں کل موت کی آغوش میں آج

ہم کو دنیا میں یہ دو وقت سہانے سے ملے

کیف بھوپالی

ماں کی دعا نہ باپ کی شفقت کا سایا ہے

آج اپنے ساتھ اپنا جنم دن منایا ہے

انجم سلیمی

ماں مجھے دیکھ کے ناراض نہ ہو جائے کہیں

سر پہ آنچل نہیں ہوتا ہے تو ڈر ہوتا ہے

انجم رہبر

ماں نے لکھا ہے خط میں جہاں جاؤ خوش رہو

مجھ کو بھلے نہ یاد کرو گھر نہ بھولنا

اجمل اجملی

مدتوں بعد میسر ہوا ماں کا آنچل

مدتوں بعد ہمیں نیند سہانی آئی

اقبال اشہر

منور ماں کے آگے یوں کبھی کھل کر نہیں رونا

جہاں بنیاد ہو اتنی نمی اچھی نہیں ہوتی

منور رانا

روشنی بھی نہیں ہوا بھی نہیں

ماں کا نعم البدل خدا بھی نہیں

انجم سلیمی

سب نے مانا مرنے والا دہشت گرد اور قاتل تھا

ماں نے پھر بھی قبر پہ اس کی راج دلارا لکھا تھا

احمد سلمان

سامنے ماں کے جو ہوتا ہوں تو اللہ اللہ

مجھ کو محسوس یہ ہوتا ہے کہ بچہ ہوں ابھی

محفوظ الرحمان عادل

شہر کے رستے ہوں چاہے گاؤں کی پگڈنڈیاں

ماں کی انگلی تھام کر چلنا بہت اچھا لگا

منور رانا

شہر میں آ کر پڑھنے والے بھول گئے

کس کی ماں نے کتنا زیور بیچا تھا

اسلم کولسری

شاید یوں ہی سمٹ سکیں گھر کی ضرورتیں

تنویرؔ ماں کے ہاتھ میں اپنی کمائی دے

تنویر سپرا

سرور جاں فزا دیتی ہے آغوش وطن سب کو

کہ جیسے بھی ہوں بچے ماں کو پیارے ایک جیسے ہیں

سرفراز شاہد

تیرے دامن میں ستارے ہیں تو ہوں گے اے فلک

مجھ کو اپنی ماں کی میلی اوڑھنی اچھی لگی

منور رانا

طفل میں بو آئے کیا ماں باپ کے اطوار کی

دودھ تو ڈبے کا ہے تعلیم ہے سرکار کی

اکبر الہ آبادی

وہ لمحہ جب مرے بچے نے ماں پکارا مجھے

میں ایک شاخ سے کتنا گھنا درخت ہوئی

حمیرا رحمان

یہ ایسا قرض ہے جو میں ادا کر ہی نہیں سکتا

میں جب تک گھر نہ لوٹوں میری ماں سجدے میں رہتی ہے

منور رانا

Added to your favorites

Removed from your favorites