Aal-e-Ahmad Suroor's Photo'

آل احمد سرور

1911 - 2002 | علی گڑہ, ہندوستان

جدید اردو تنقید کے بنیاد سازوں میں شامل ہیں

جدید اردو تنقید کے بنیاد سازوں میں شامل ہیں

2.15K
Favorite

باعتبار

ہم جس کے ہو گئے وہ ہمارا نہ ہو سکا

یوں بھی ہوا حساب برابر کبھی کبھی

ساحل کے سکوں سے کسے انکار ہے لیکن

طوفان سے لڑنے میں مزا اور ہی کچھ ہے

تمہاری مصلحت اچھی کہ اپنا یہ جنوں بہتر

سنبھل کر گرنے والو ہم تو گر گر کر سنبھلے ہیں

حسن کافر تھا ادا قاتل تھی باتیں سحر تھیں

اور تو سب کچھ تھا لیکن رسم دل داری نہ تھی

آتی ہے دھار ان کے کرم سے شعور میں

دشمن ملے ہیں دوست سے بہتر کبھی کبھی

مے کشی کے بھی کچھ آداب برتنا سیکھو

ہاتھ میں اپنے اگر جام لیا ہے تم نے

آج پی کر بھی وہی تشنہ لبی ہے ساقی

لطف میں تیرے کہیں کوئی کمی ہے ساقی

ہم تو کہتے تھے زمانہ ہی نہیں جوہر شناس

غور سے دیکھا تو اپنے میں کمی پائی گئی

جو ترے در سے اٹھا پھر وہ کہیں کا نہ رہا

اس کی قسمت میں رہی در بدری کہتے ہیں

کچھ تو ہے ویسے ہی رنگیں لب و رخسار کی بات

اور کچھ خون جگر ہم بھی ملا دیتے ہیں

یہ کیا غضب ہے جو کل تک ستم رسیدہ تھے

ستم گروں میں اب ان کا بھی نام آیا ہے

لوگ مانگے کے اجالے سے ہیں ایسے مرعوب

روشنی اپنے چراغوں کی بری لگتی ہے

وہ تبسم ہے کہ غالبؔ کی طرح دار غزل

دیر تک اس کی بلاغت کو پڑھا کرتے ہیں

بستیاں کچھ ہوئیں ویران تو ماتم کیسا

کچھ خرابے بھی تو آباد ہوا کرتے ہیں

تمام عمر کٹی اس کی جستجو کرتے

بڑے دنوں میں یہ طرز کلام آیا ہے

اب دھنک کے رنگ بھی ان کو بھلے لگتے نہیں

مست سارے شہر والے خون کی ہولی میں تھے

ابھی آتے نہیں اس رند کو آداب مے خانہ

جو اپنی تشنگی کو فیض ساقی کی کمی سمجھے

جہاں میں ہو گئی نا حق تری جفا بد نام

کچھ اہل شوق کو دار و رسن سے پیار بھی ہے

ہستی کے بھیانک نظارے ساتھ اپنے چلے ہیں دنیا سے

یہ خواب پریشاں اور ہم کو تا صبح قیامت سونا ہے