noImage

عبدالوہاب یکروؔ

اردو کے اولین کلاسیکی شاعروں میں شامل، آبرو کے شاگرد

اردو کے اولین کلاسیکی شاعروں میں شامل، آبرو کے شاگرد

70
Favorite

باعتبار

پیاسا مت جلا ساقی مجھے گرمی سیں ہجراں کی

شتابی لا شراب خام ہم نے دل کو بھونا ہے

جبھی تو پان کھا کر مسکرایا

تبھی دل کھل گیا گل کی کلی کا

جنے دیکھا سو ہی بورا ہوا ہے

ترے تل ہیں مگر کالا دھتورا

جو توں مرغا نہیں ہے اے زاہد

کیوں سحر گاہ دے ہے اٹھ کے بانگ

خم محراب ابرواں کے بیچ

کام آنکھوں کا ہے امامت کا

عشق کا طفل گر زمیں اوپر

کھیل سیکھا ہے خاک بازی کا

نہ ہووے کیوں کے گردوں پہ صدا دل کی بلند اپنی

ہماری آہ ہے ڈنکا دمامے کے بجانے کا

رقیبان سیہ رو شہر دہلی کے مصاحب ہیں

گندا نالا بھی جا کر مل رہا ہے دیکھ جمنا کوں

عشق کے فن نیں ہوں میں اودھوت

ترے در پے بٹھا ہوں مل کے بھبھوت

جب کہ پہرا ہے تیں لباس زریں

اک قد آدم ہوئی ہے آگ بلند

جگر میں لعل کے آتش پڑی ہے

مگر تجھ لب اوپر ہاں کی دھڑی ہے

کماں ابرو نپٹ شہ زور ہے گا

کہ شاخ آشنائی توڑ ڈالی