Ali Jawwad Zaidi's Photo'

علی جواد زیدی

1916 - 2004 | لکھنؤ, ہندوستان

معروف شاعر اور نقاد، اپنی تنقیدی کتاب ’دو ادبی اسکول‘ کے لیے بھی جانے جاتے ہیں

معروف شاعر اور نقاد، اپنی تنقیدی کتاب ’دو ادبی اسکول‘ کے لیے بھی جانے جاتے ہیں

785
Favorite

باعتبار

عیش ہی عیش ہے نہ سب غم ہے

زندگی اک حسین سنگم ہے

جن حوصلوں سے میرا جنوں مطمئن نہ تھا

وہ حوصلے زمانے کے معیار ہو گئے

اب درد میں وہ کیفیت درد نہیں ہے

آیا ہوں جو اس بزم گل افشاں سے گزر کے

یہ دشمنی ہے ساقی یا دوستی ہے ساقی

اوروں کو جام دینا مجھ کو دکھا دکھا کے

لذت درد ملی عشرت احساس ملی

کون کہتا ہے ہم اس بزم سے ناکام آئے

ہم اہل دل نے معیار محبت بھی بدل ڈالے

جو غم ہر فرد کا غم ہے اسی کو غم سمجھتے ہیں

ہجر کی رات یہ ہر ڈوبتے تارے نے کہا

ہم نہ کہتے تھے نہ آئیں گے وہ آئے تو نہیں

مرے ہاتھ سلجھا ہی لیں گے کسی دن

ابھی زلف ہستی میں خم ہے تو کیا غم

دل میں جو درد ہے وہ نگاہوں سے ہے عیاں

یہ بات اور ہے نہ کہیں کچھ زباں سے ہم

گفتگو کے ختم ہو جانے پر آیا یہ خیال

جو زباں تک آ نہیں پایا وہی تو دل میں تھا

مونس شب رفیق تنہائی

درد دل بھی کسی سے کم تو نہیں

ایک تمہاری یاد نے لاکھ دیے جلائے ہیں

آمد شب کے قبل بھی ختم سحر کے بعد بھی

شوق منزل ہم سفر ہے جذبۂ دل راہبر

مجھ پہ خود بھی کھل نہیں پاتا کدھر جاتا ہوں میں

نظارۂ جمال کی فرصت کہاں ملی

پہلی نظر نظر کی حدوں سے گزر گئی

دل کا لہو نگاہ سے ٹپکا ہے بارہا

ہم راہ غم میں ایسی بھی منزل سے آئے ہیں

غضب ہوا کہ ان آنکھوں میں اشک بھر آئے

نگاہ یاس سے کچھ اور کام لینا تھا

جب چھیڑتی ہیں ان کو گمنام آرزوئیں

وہ مجھ کو دیکھتے ہیں میری نظر بچا کے

پی تو لوں آنکھوں میں امڈے ہوئے آنسو لیکن

دل پہ قابو بھی تو ہو ضبط کا یارا بھی تو ہو

دیار سجدہ میں تقلید کا رواج بھی ہے

جہاں جھکی ہے جبیں ان کا نقش پا تو نہیں

ہیں وجود شے میں پنہاں ازل و ابد کے رشتے

یہاں کچھ نہیں دو روزہ کوئی شے نہیں ہے فانی

دکھا دی میں نے وہ منزل جو ان دونوں کے آگے ہے

پریشاں ہیں کہ آخر اب کہیں کیا کفر و دیں مجھ سے

مدتوں سے خلش جو تھی جیسے وہ کم سی ہو چلی

آج مرے سوال کا مل ہی گیا جواب کیا

جب کبھی دیکھا ہے اے زیدیؔ نگاہ غور سے

ہر حقیقت میں ملے ہیں چند افسانے مجھے

آنکھوں میں لیے جلوۂ نیرنگ تماشا

آئی ہے خزاں جشن بہاراں سے گزر کے

اب نہ وہ شورش رفتار نہ وہ جوش جنوں

ہم کہاں پھنس گئے یاران سبک گام کے ساتھ

ہار کے بھی نہیں مٹی دل سے خلش حیات کی

کتنے نظام مٹ گئے جشن ظفر کے بعد بھی