Ambareen Haseeb ambar's Photo'

عنبرین حسیب عنبر

1981 | کراچی, پاکستان

مشاعروں میں بے انتہا مقبول پاکستانی شاعرہ

مشاعروں میں بے انتہا مقبول پاکستانی شاعرہ

745
Favorite

باعتبار

فیصلہ بچھڑنے کا کر لیا ہے جب تم نے

پھر مری تمنا کیا پھر مری اجازت کیوں

مجھ میں اب میں نہیں رہی باقی

میں نے چاہا ہے اس قدر تم کو

اب کے ہم نے بھی دیا ترک تعلق کا جواب

ہونٹ خاموش رہے آنکھ نے بارش نہیں کی

تعلق جو بھی رکھو سوچ لینا

کہ ہم رشتہ نبھانا جانتے ہیں

دنیا تو ہم سے ہاتھ ملانے کو آئی تھی

ہم نے ہی اعتبار دوبارہ نہیں کیا

اڑ گئے سارے پرندے موسموں کی چاہ میں

انتظار ان کا مگر بوڑھے شجر کرتے رہے

ہم تو سنتے تھے کہ مل جاتے ہیں بچھڑے ہوئے لوگ

تو جو بچھڑا ہے تو کیا وقت نے گردش نہیں کی

اس عارضی دنیا میں ہر بات ادھوری ہے

ہر جیت ہے لا حاصل ہر مات ادھوری ہے

عمر بھر کے سجدوں سے مل نہیں سکی جنت

خلد سے نکلنے کو اک گناہ کافی ہے

بن کے ہنسی ہونٹوں پر بھی رہتے ہو

اشکوں میں بھی تم بہتے ہو تم بھی ناں

دل جن کو ڈھونڈھتا ہے نہ جانے کہاں گئے

خواب و خیال سے وہ زمانے کہاں گئے

دھیان میں آ کر بیٹھ گئے ہو تم بھی ناں

مجھے مسلسل دیکھ رہے ہو تم بھی ناں

محبت اور قربانی میں ہی تعمیر مضمر ہے

در و دیوار سے بن جائے گھر ایسا نہیں ہوتا

زندگی میں کبھی کسی کو بھی

میں نے چاہا نہیں مگر تم کو

بھول جوتے ہیں مسافر رستہ

لوگ کہتے ہیں کہانی پھر بھی

جو تم ہو تو یہ کیسے مان لوں میں

کہ جو کچھ ہے یہاں بس اک گماں ہے

کیا خوب تماشہ ہے یہ کار گہ ہستی

ہر جسم سلامت ہے ہر ذات ادھوری ہے

عیاں دونوں سے تکمیل جہاں ہے

زمیں گم ہو تو پھر کیا آسماں ہے

کیا جانئے کیا سوچ کے افسردہ ہوا دل

میں نے تو کوئی بات پرانی نہیں لکھی

وہ جنگ جس میں مقابل رہے ضمیر مرا

مجھے وہ جیت بھی عنبرؔ نہ ہوگی ہار سے کم

تم نے کس کیفیت میں مخاطب کیا

کیف دیتا رہا لفظ تو دیر تک

اے آسماں کس لیے اس درجہ برہمی

ہم نے تو تری سمت اشارا نہیں کیا

لفظ کی حرمت مقدم ہے دل و جاں سے مجھے

سچ تعارف ہے مرے ہر شعر ہر تحریر کا

اک حسیں خواب کہ آنکھوں سے نکلتا ہی نہیں

ایک وحشت ہے کہ تعبیر ہوئی جاتی ہے

ترے فراق میں دل کا عجیب عالم ہے

نہ کچھ خمار سے بڑھ کر نہ کچھ خمار سے کم

تشہیر تو مقصود نہیں قصۂ دل کی

سو تجھ کو لکھا تیری نشانی نہیں لکھی

پیروی سے ممکن ہے کب رسائی منزل تک

نقش پا مٹانے کو گرد راہ کافی ہے

مانوس بام و در سے نظر پوچھتی رہی

ان میں بسے وہ لوگ پرانے کہاں گئے