Ameeta Parsuram Meeta's Photo'

امیتا پرسو رام میتا

1955 | دلی, ہندوستان

442
Favorite

باعتبار

زندگی اپنا سفر طے تو کرے گی لیکن

ہم سفر آپ جو ہوتے تو مزا اور ہی تھا

کچھ تو احساس محبت سے ہوئیں نم آنکھیں

کچھ تری یاد کے بادل بھی بھگو جاتے ہیں

تجھی سے گفتگو ہر دم تری ہی جستجو ہر دم

مری آسانیاں تجھ سے مری مشکل ہے تو ہی تو

ہم نے ہزار فاصلے جی کر تمام شب

اک مختصر سی رات کو مدت بنا دیا

صبح روشن کو اندھیروں سے بھری شام نہ دے

دل کے رشتے کو مری جان کوئی نام نہ دے

دو کناروں کو ملایا تھا فقط لہروں نے

ہم اگر اس کے نہ تھے وہ بھی ہمارا کب تھا

نہ ہوں خواہشیں نہ گلا کوئی نہ جفا کوئی

نہ سوال عہد وفا کا ہو وہی عشق ہے

کوئی تدبیر نہ تقدیر سے لینا دینا

بس یوں ہی فیصلے جو ہونے ہیں ہو جاتے ہیں

کون تھا میرے علاوہ اس کا

اس نے ڈھونڈے تھے ٹھکانے کیا کیا

وہی چرچے وہی قصے ملی رسوائیاں ہم کو

انہی قصوں سے وہ مشہور ہو جائے تو کیا کیجے

تیرا انداز نرالا سب سے

تیر تو ایک نشانے کیا کیا

اب زمانہ ہے بے وفائی کا

سیکھ لیں ہم بھی یہ ہنر شاید

یہ آرزو ہے کہ اب کوئی آرزو نہ رہے

کسی سفر کسی منزل کی جستجو نہ رہے

ادھوری وفاؤں سے امید رکھنا

ہمارے بھی دل کی عجب سادگی ہے

قائم ہے اب بھی میری وفاؤں کا سلسلہ

اک سلسلہ ہے ان کی جفاؤں کا سلسلہ

آج موسم بھی کچھ اداس ملا

آج تنہائی بھی اکیلی ہے

کعبہ و دیر میں اب ڈھونڈ رہی ہے دنیا

جو دل و جان میں بستا تھا خدا اور ہی تھا

گزر ہی جائیں گے تیرے فراق کے موسم

ہر انتظار کے آگے بھی ہیں مقام کئی

ہم سفر وہ جو ہم سفر ہی نہ تھا

اور پھر کر لیں دوریاں میں نے

اس کا وعدہ ہے لوٹ آنے کا

اور مرا انتظار کا وعدہ

تری یادوں سے مہکا ہے میری تنہائی کا عالم

قیامت تک انہیں تنہائیاں میں ڈوبنا چاہوں

کھینچ لایا تجھے احساس محبت مجھ تک

ہم سفر ہونے کا تیرا بھی ارادہ کب تھا

وقت سے لمحہ لمحہ کھیلی ہے

زندگی اک عجب پہیلی ہے

ملے قطرہ قطرہ یہ کیا زندگی ہے

اے دریائے رحمت وہی تشنگی ہے

زندگی اپنا سفر طے تو کرے گی لیکن

ہم سفر آپ جو ہوتے تو مزا اور ہی تھا

تجدید زندگی کے اشارے ہوئے تو ہیں

کچھ پل سہی وہ آج ہمارے ہوئے تو ہیں

مزا تبھی ہے محبت میں غرق ہونے کا

میں ڈوب جاؤں تو یہ ہو کہ تو بھی تو نہ رہے

درد جب ضبط کی ہر حد سے گزر جاتا ہے

خواب تنہائی کی آغوش میں سو جاتے ہیں

گنوا دی عمر جس کو جیتنے میں

وہ دنیا میری جاں تیری نہ میری

مرے ہم سفر مری جان جاں کہوں اور کیا

تری قربتوں میں ہیں دوریاں کہوں اور کیا

یادوں کا اک ہجوم تھا تنہا نہیں تھی میری ذات

خود کلامی میں ہوئی تمام شب انہیں سے بات

برسیں گی آج رحمتیں آمد ہے یار کی

نایاب ہیں یہ گھڑیاں ترے انتظار کی

تمہیں ہم سے محبت ہے ہمیں تم سے محبت ہے

انا کا دائرہ پھر بھی ہمارے درمیاں کیوں ہے

اگر ہے زندگی اک جشن تو نا مہرباں کیوں ہے

فسردہ رنگ میں ڈوبی ہوئی ہر داستاں کیوں ہے

نہ ہوں خواہشیں نہ گلہ کوئی نہ جفا کوئی

نہ سوال عہد وفا کا ہو وہی عشق ہے

پر کتر پائی جب نہ خوابوں کے

بند ہی کر دیں کھڑکیاں میں نے

زندگی اب تجھے سنواریں کیا

کوششیں ساری بے اثر شاید

محبت عمر بھر کی رائیگاں کرنا نہیں اچھا

سنبھل اے دل انا کو آسماں کرنا نہیں اچھا

سن کے ہر سمت سسکیاں میں نے

جانے کیوں کر لیں دوریاں میں نے