Anjum Ludhianvi's Photo'

انجم لدھیانوی

لدھیانہ, ہندوستان

571
Favorite

باعتبار

دھوپ نکلی ہے بارشوں کے بعد

وہ ابھی رو کے مسکرائے ہیں

دوستی بندگی وفا و خلوص

ہم یہ شمع جلانا بھول گئے

خودکشی کرنے میں بھی ناکام رہ جاتے ہیں ہم

کون امرت گھول دیتا ہے ہمارے زہر میں

رنگ ہی سے فریب کھاتے رہیں

خوشبوئیں آزمانا بھول گئے

تیرے جاتے ہی یہ ہوا محسوس

آئنے مسکرانا بھول گئے

آپ کے بھی ہو جائیں گے ہم

پہلے اپنے تو ہو لیں

دل بجھا بجھا ہو تو کیا برا ہے رونے میں

بارشوں کے بعد انجم آسماں نکھرتا ہے

دل ہر ضد منوا لیتا ہے

یہ بچہ شیطان بہت ہے

بستی میں اک پھول کھلا

محلوں محلوں چرچا ہے

دل کا کیا کروں یارو مانتا نہیں میری

اپنے دل کی سنتا ہے اپنے من کی کرتا ہے

صبح کا خواب عمر بھر دیکھا

اور پھر نیند آ گئی انجمؔ

راہ وفا پر چلنے والے

یہ رستہ ویران بہت ہے

اس نے دریا کو لگا کر ٹھوکر

پیاس کی عمر بڑھائی ہوگی

نیند کیوں ٹوٹ گئی آخر شب

کون میرے لئے تڑپا ہوگا

خوشبوئیں پھوٹ کے روئی ہوں گی

گل ہواؤں میں جو بکھرا ہوگا

سنتے ہیں اک ہوا کا جھونکا

اک خوشبو کو لے بھاگا ہے