عظمت عبدالقیوم خاں کے اشعار
منزل پہ نظر آئی بہت دورئ منزل
بے ساختہ آنے لگے سب راہنما یاد
زندگانی کا لطف تو عظمتؔ
صرف طوفان کی پناہ میں ہے
یہ بات بھی ہے کہ تو بھی نہیں ہے اب میرا
یہ بات بھی ہے کہ تیرے سوا نہیں کوئی
روشنیوں کے شہر میں رہ کر
ہم اندھیروں سے روشناس رہے
موت پہروں اداس رہتی ہے
ہم اگر زندگی سے ملتے ہیں
غم امروز کا گلہ کیوں ہو
حسن فردا مری نگاہ میں ہے
شعور زندگی کی روشنی میں
شب غم بھی سحر سے کم نہیں ہے
پھول کس بے دلی سے ہنستے ہیں
آپ کس بے دلی سے ملتے ہیں
مسرور و مطمئن ہیں بہت تاجران وقت
کیا زندگی کے خواب بھی نیلام ہو گئے
اب زمانے سے اور کیا مانگوں
دولت غم بہت زیادہ ہے
پاس آئے تو کشش ہے نہ جمال رنگیں
دور سے پھول نظر آئے تھے خوش رو کتنے
تجربات غم سے عظمتؔ کو ملا
یہ شعور فن یہ انداز غزل
زندگی تیرگیٔ شب ہی نہیں
صبح کی روشنی بھی ہوتی ہے
کل یہ ممکن ہے کہ لہرائیں خوشی کے گیت بھی
ہر نظر میں آج اک خاموش سا عالم سہی
جو بجلیوں کی پناہوں میں تم بنا سکتے
تو اس قدر نہ تمہیں خوف آشیاں ہوتا
خدا جانے زمانہ آج کس حالت میں رہتا ہے
کہ ویرانوں سے بڑھ کر ہے چمن زاروں کی رسوائی
آباد میکدے بھی ہیں دیر و حرم بھی نہیں
لیکن نہ آدمی کو ملا کوئی آدمی