Bekhud Dehlvi's Photo'

بیخود دہلوی

1863 - 1955 | دلی, ہندوستان

داغ دہلوی کے شاگرد

داغ دہلوی کے شاگرد

9.1K
Favorite

باعتبار

ادائیں دیکھنے بیٹھے ہو کیا آئینہ میں اپنی

دیا ہے جس نے تم جیسے کو دل اس کا جگر دیکھو

راہ میں بیٹھا ہوں میں تم سنگ رہ سمجھو مجھے

آدمی بن جاؤں گا کچھ ٹھوکریں کھانے کے بعد

دل محبت سے بھر گیا بیخودؔ

اب کسی پر فدا نہیں ہوتا

بات وہ کہئے کہ جس بات کے سو پہلو ہوں

کوئی پہلو تو رہے بات بدلنے کے لیے

سن کے ساری داستان رنج و غم

کہہ دیا اس نے کہ پھر ہم کیا کریں

آئنہ دیکھ کر وہ یہ سمجھے

مل گیا حسن بے مثال ہمیں

دل تو لیتے ہو مگر یہ بھی رہے یاد تمہیں

جو ہمارا نہ ہوا کب وہ تمہارا ہوگا

جادو ہے یا طلسم تمہاری زبان میں

تم جھوٹ کہہ رہے تھے مجھے اعتبار تھا

وہ کچھ مسکرانا وہ کچھ جھینپ جانا

جوانی ادائیں سکھاتی ہیں کیا کیا

نہ دیکھنا کبھی آئینہ بھول کر دیکھو

تمہارے حسن کا پیدا جواب کر دے گا

ہمیں پینے سے مطلب ہے جگہ کی قید کیا بیخودؔ

اسی کا نام جنت رکھ دیا بوتل جہاں رکھ دی

مجھ کو نہ دل پسند نہ وہ بے وفا پسند

دونوں ہیں خود غرض مجھے دونوں ہیں نا پسند

حوروں سے نہ ہوگی یہ مدارات کسی کی

یاد آئے گی جنت میں ملاقات کسی کی

سخت جاں ہوں مجھے اک وار سے کیا ہوتا ہے

ایسی چوٹیں کوئی دو چار تو آنے دیجے

بات کرنے کی شب وصل اجازت دے دو

مجھ کو دم بھر کے لئے غیر کی قسمت دے دو

منہ میں واعظ کے بھی بھر آتا ہے پانی اکثر

جب کبھی تذکرۂ جام شراب آتا ہے

قیامت ہے تری اٹھتی جوانی

غضب ڈھانے لگیں نیچی نگاہیں

بولے وہ مسکرا کے بہت التجا کے بعد

جی تو یہ چاہتا ہے تری مان جائیے

دی قسم وصل میں اس بت کو خدا کی تو کہا

تجھ کو آتا ہے خدا یاد ہمارے ہوتے

چشم بد دور وہ بھولے بھی ہیں ناداں بھی ہیں

ظلم بھی مجھ پہ کبھی سوچ سمجھ کر نہ ہوا

تم کو آشفتہ مزاجوں کی خبر سے کیا کام

تم سنوارا کرو بیٹھے ہوئے گیسو اپنے

جھوٹا جو کہا میں نے تو شرما کے وہ بولے

اللہ بگاڑے نہ بنی بات کسی کی

جواب سوچ کے وہ دل میں مسکراتے ہیں

ابھی زبان پہ میری سوال بھی تو نہ تھا

اب آپ کوئی کام سکھا دیجئے ہم کو

معلوم ہوا عشق کے قابل تو نہیں ہم

دشمن کے گھر سے چل کے دکھا دو جدا جدا

یہ بانکپن کی چال یہ ناز و ادا کی ہے

میرا ہر شعر ہے اک راز حقیقت بیخودؔ

میں ہوں اردو کا نظیریؔ مجھے تو کیا سمجھا

چلنے کی نہیں آج کوئی گھات کسی کی

سننے کے نہیں وصل میں ہم بات کسی کی

انہیں تو ستم کا مزا پڑ گیا ہے

کہاں کا تجاہل کہاں کا تغافل

نمک بھر کر مرے زخموں میں تم کیا مسکراتے ہو

مرے زخموں کو دیکھو مسکرانا اس کو کہتے ہیں

دل ہوا جان ہوئی ان کی بھلا کیا قیمت

ایسی چیزوں کے کہیں دام دیے جاتے ہیں

سوال وصل پر کچھ سوچ کر اس نے کہا مجھ سے

ابھی وعدہ تو کر سکتے نہیں ہیں ہم مگر دیکھو

رقیبوں کے لیے اچھا ٹھکانا ہو گیا پیدا

خدا آباد رکھے میں تو کہتا ہوں جہنم کو

تکیہ ہٹتا نہیں پہلو سے یہ کیا ہے بیخودؔ

کوئی بوتل تو نہیں تم نے چھپا رکھی ہے

پڑھے جاؤ بیخودؔ غزل پر غزل

وہ بت بن گئے ہیں سنے جائیں گے

محفل وہی مکان وہی آدمی وہی

یا ہم نئے ہیں یا تری عادت بدل گئی

بھولے سے کہا مان بھی لیتے ہیں کسی کا

ہر بات میں تکرار کی عادت نہیں اچھی

منہ پھیر کر وہ کہتے ہیں بس مان جائیے

اس شرم اس لحاظ کے قربان جائیے

ہمیں اسلام اسے اتنا تعلق ہے ابھی باقی

بتوں سے جب بگڑتی ہے خدا کو یاد کرتے ہیں

یہ کہہ کے میرے سامنے ٹالا رقیب کو

مجھ سے کبھی کی جان نہ پہچان جائیے

غم میں ڈوبے ہی رہے دم نہ ہمارا نکلا

بحر ہستی کا بہت دور کنارا نکلا

بیخودؔ تو مر مٹے جو کہا اس نے ناز سے

اک شعر آ گیا ہے ہمیں آپ کا پسند

زمانہ ہم نے ظالم چھان مارا

نہیں ملتیں ترے ملنے کی راہیں

محبت اور مجنوں ہم تو سودا اس کو کہتے ہیں

فدا لیلیٰ پہ تھا آنکھوں کا اندھا اس کو کہتے ہیں

ہو لیے جس کے ہو لیے بیخودؔ

یار اپنا تو یہ حساب رہا

تیر قاتل کو کلیجے سے لگا رکھا ہے

ہم تو دشمن کو بھی آرام دیے جاتے ہیں

نظر کہیں ہے مخاطب کسی سے ہیں دل میں

جواب کس کو ملا ہے سوال کس کا تھا

نہ دیکھے ہوں گے رند لاابالی تم نے بیخودؔ سے

کہ ایسے لوگ اب آنکھوں سے اوجھل ہوتے جاتے ہیں

کیا کہہ دیا یہ آپ نے چپکے سے کان میں

دل کا سنبھالنا مجھے دشوار ہو گیا

دل میں پھر وصل کے ارمان چلے آتے ہیں

میرے روٹھے ہوئے مہمان چلے آتے ہیں

سودائے عشق اور ہے وحشت کچھ اور شے

مجنوں کا کوئی دوست فسانہ نگار تھا